توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 170 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 170

توہین رسالت کی سزا 170 } قتل نہیں ہے اس صورتحال میں یہ تو بالکل واضح ہے کہ ان روایات یا واقعات میں سے کوئی ایک درست ہے۔لیکن علم روایت و درایت کو جانے والا ہر محقق اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ درست واقعہ وہی ہے جو صحیح بخاری (اصح الکتب بعد کتاب اللہ ) میں درج ہے۔کیونکہ اس کی سند مکمل ہے اور صحاح ستہ میں یہ روایت بار بار اخذ کی گئی ہے۔اس روایت کے مطابق کوئی قتل نہیں ہوا۔باقی روایات وضعی ہیں جو ر ڈ کرنے کے لائق ہیں۔روح المعانی کی مذکورہ بالا روایت میں رڈ شدہ واقعے کے بارے میں یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ واقعہ کعب بن اشرف کی زندگی کا ہے یعنی 3 ھ یا اس سے پہلے کا ہے۔اس وقت تو عبد اللہ بن عباس مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے۔مسلمان تو کیا اس وقت آپ گتے میں کم و بیش 5/4 سال کی عمر کے بچے تھے۔اس عمر کا بچہ جو مکے کا رہنے والا تھا، سینکڑوں میل دور مدینے کے ایسے گہرے مسائل اور آیات کے نزول کے پس منظر کو کس طرح جان اور سمجھ سکتا تھا۔پس واضح ہے کہ یہ روایت مبینہ طور پر وضعی اور جعلی ہے جو ایک بار پھر حضرت عبد اللہ بن عباس کے نام پر وضع کی گئی ہے۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں یہ حقیقت کھول کر بیان کی گئی ہے کہ حضرت ابن عباس پر وضاعوں نے یہ ظلم کیا ہے کہ ان کی طرف وہ روایات و تفاسیر منسوب کر دی ہیں جو انہیں نے بیان نہیں کیں۔آیات کے شان نزول کی حقیقت آیات کے شانِ نزول سے عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ادھر کوئی واقعہ ہوا اور اُدھر فوراً اس کے مطابق آیت اتر آئی اور وہ واقعہ اس آیت کے نزول کا موجب بن گیا۔دراصل یہ معاملہ اس طرح نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں یہ حقیقت مد نظر رکھنی چاہئے کہ شانِ نزول یا وجہ نزول کا مسئلہ ایک مشکل مسئلہ ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”الفوز الکبیر میں اس مسئلے پر جامع روشنی ڈالی ہے۔