توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 164 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 164

توہین رسالت کی سزا { 164 } :24 محمد بن ابی بکر کے بارے میں ایک روایت قتل نہیں ہے توہین رسول کے ضمن میں ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ ”حضرت ابو بکر کے صاحبزادے حضرت محمد کے دور میں ایک امام نے جس کا نام عبد اللہ بن نواحہ تھا، قرآن کی آیات کا مذاق اڑایا اور مفاہیم کے رد و بدل سے یہ الفاظ کہے: قسم ہے آٹا پینے والی عورتوں کی جو اچھی طرح گوندھتی ہیں پھر روٹی پکاتی ہیں پھر شرید بناتی ہیں پھر خوب لقمے لیتی ہیں۔“ اس پر حضرت نے اسے قتل کا حکم سنایا اور لمحہ بھر بھی تأخیر نہ فرمائی۔( مصنف ابن ابی شیبه باب ارتداد “ سرسری نظر سے ہی اس روایت پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی ال نیلم کی کو نسی تو ہین ہے یا کونسی گالی ہے جو آپ کو دی گئی ہے ؟ جس کی بناء پر اسے توہین رسول کی سزا قتل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اپنے متشدد مقاصد کے حل کے لئے یا اپنے خونی ارادوں کی تسکین کے لئے یہاں حضرت ابو بکر کے صاحبزادے کے ایک فعل کو شریعت کے ایک قانون کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔یعنی انہوں نے جو کہا یا کیا، وہ ایک شرعی حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔جو ایسے لوگوں کی نام نہاد اسلامی سلطنت کے سنہری اصولوں میں شمار کیا جائے گا۔یہ درست ہے کہ محمد، حضرت ابو بکر کے بیٹے تھے۔مگر ان حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ حجتہ الوداع کے ایام میں پیدا ہوئے اور امر واقعہ یہ ہے کہ حجۃ الوداع کے اسی (80) دن بعد رسول اللہ صلی للی نیم کا وصال ہو گیا تھا۔لہذا ظاہر ہے کہ انہیں آپ کی صحبت حاصل نہ