توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 2
توہین رسالت کی سزا 2} { 2 } قتل نہیں ہے کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس قطعی طور پر یہ ایک غلط موقف ہے جسے قائلین قتل شاتم قرآن کریم سے کسی طور پر بھی ثابت کر سکے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔لیکن ان کی مشکل یہ ہے کہ چونکہ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ سزا ایک شرعی حیثیت رکھتی ہے اس لئے کسی نہ کسی طور پر وہ اسے قرآنِ کریم سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے اول طور پر جس آیت سے استدلال پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ : وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِئَ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنٌ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ“ (سورۃ التوبہ 61 ) کہ ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں هُوَ أُذُن کہ یہ تو ہر وقت سننے کا کان بنا ہوا ہے۔یعنی لوگوں کی چغلیاں سنتا اور ان پر عمل کرتا اور ان پر ایمان لاتا ہے اور یکطرفہ باتیں سن کر ان کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔یہ کفار اور منافقوں کے خیالات ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ أُذُنْ خَيْرِ لَكُمْ وہ کان تو ہے مگر بھلائی کی باتوں پر کان دھرتا ہے۔وہ ایسا کان ہے جو تمہاری بھلائی کا کان ہے۔تمہارے لئے شر کی بات کو قبول نہیں کرتا۔تمہاری خیر کی بات کو قبول کرنے والا ہے۔يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور مومنوں کے لئے ایمان رکھتا ہے۔یعنی مومنوں کی سچی باتیں سنتا ہے۔وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ اور وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے مختم رحمت ہے۔وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُول اللہ اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہیں۔لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔