توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 157
***** توہین رسالت کی سزا { 157 } قتل نہیں ہے فتح القدیر کے مصنف ( یعنی عبد الرزاق) کے حوالے سے ایک چڑھاوا اس روایت پر چڑھایا گیا ہے۔لیکن نفس روایت کو اگر دیکھا جائے تو فتح القدیر کا تبصرہ اس سے بالکل مختلف ہے۔روایت کے الفاظ کے مطابق حضرت معاذ ایک مرتد کو مارنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ فتح القدیر کا مصنف اسے شاتم یا گستاخ رسول کی سزا کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اسی بناوٹی کارروائی سے ثابت ہو تا ہے کہ ہر قتل کے معاملے کو انتہائی تکلف اور بناوٹ کے ساتھ سب و شتم رسول سے منسلک کیا جاتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت سب و شتم والے مسئلے سے کسی طرح بھی متعلق نہیں ہے۔