توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 149
توہین رسالت کی سزا { 149 } قتل نہیں ہے اور آپ سے پہلے یا بعد میں آنے والے نبیوں میں سے کسی کو گالی دیتا ہے تو اس سے فَاقْتُلُوه کے معنوں کے مطابق سلوک ہونا چاہئے۔فَاقْتُلُوهُ: اس لفظ کے عام معنے تو جان سے مار دینے کے ہیں۔مگر قرآن کریم، حدیث نبوی، عربی زبان اور محاورے کے مطابق قتل کے حقیقی معنوں کے ساتھ اس کے مجازی اور محاوراتی معنے بھی دیکھنے ضروری ہیں۔چنانچہ آیت کریمہ " قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا اكْفَرَةُ ، ( عبر: 18) کے بارہ میں مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں قتل کا مطلب لعِنَ ہے۔یعنی (ایسے) انسان پر اللہ کی لعنت ہو۔اسی طرح ” قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ" (التوبة: 30) اس کا معنی یہ کیا گیا ہے کہ خدا منافقوں پر لعنت ڈالے۔حدیث میں ہے " قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ " کہ اللہ یہود کو ہلاک کرے۔اس کا مطلب یہ بھی لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت ڈالے۔اور بعض نے یہ معنے کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا دشمن ہو۔رسول اللہ صلی ا یکم نے نمازی کو حکم دیا ہے کہ اگر نماز میں اس کے آگے سے کوئی گزرے تو قَاتِلُهُ فَإِنَّهُ لَشَيْطن" کہ وہ شیطان ہے اسے سامنے سے ہٹا دو۔یہاں اس کے معنے موت کے گھاٹ اتارنے کی بجائے اسے ہٹا دینے کے لئے جاتے ہیں۔رہ روایتیں ان معنوں کے ثبوت میں کتب لغت میں درج کی گئی ہیں۔