توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 138 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 138

توہین رسالت کی سزا 138 } قتل نہیں ہے 20 "مَنْ سَبَ نَبِيَّاً فَاقْتُلُوهُ 66 حضرت علی کی طرف منسوب یہ روایت بھی شاتم رسول کے قتل کے جواز کے لئے بہت کثرت سے پیش کی جاتی ہے۔وہ روایت یہ ہے: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِى عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عَهِ اللهِ قَالَ مَنْ سَبَ نَبِيّاً فَاقْتُلُوهُ وَمَنْ سَبَ أَصْحَابِي فَاضْرِبُوهُ ) الشفاء القسم الرابع في تصرف وجوه الاحکام فیمن تنقصه او سنہ علیہ السلام - الباب الاول فی بیان ما ھو فی حقہ است او نقص۔۔۔۔۔۔شرح ملا علی قاری صفحہ 304 ) کہ حضرت حسین نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابی کو گالی دے، اسے پیٹو۔روایت کے ماخذ اور اس کا زمانہ یہ روایت گو متقدمین اور متاخرین کی تصنیف کردہ : در جن بھر کتب میں درج ہے اور یہ صرف حضرت علی سے مروی ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق یہ روایت حضرت علی کی وفات کے کم و بیش اڑھائی سو سال بعد سب سے پہلے جس کتاب میں اول طور پر ظاہر ہوئی، المعجم الصغیر ہے جو امام ابو القاسم طبرانی کی تصنیف ہے۔امام طبرانی 360 ہجری میں فوت ہوئے۔یعنی یہ روایت چوتھی صدی ہجری میں نمودار ہوئی ہے۔اس سے پہلے صحاح ستہ میں اور احادیث کے دیگر ابتدائی مجموعوں میں یہ روایت موجود نہیں ہے۔چنانچہ ملا علی قاری نے شرح الشفا میں لکھا ہے کہ امام حلبی کہتے ہیں کہ یہ روایت صحاح ستہ میں نہیں ہے اور امام طبرانی اسے ضعیف سند کے ساتھ لائے ہیں۔یعنی یہ ایسی روایت ہے جو تین صدیوں کے