توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 137 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 137

توہین رسالت کی سزا 137 } قتل نہیں ہے 19: مقیس بن صبابہ مقیس کو بھی کشتہ سب و شتم قرار دیا گیا ہے۔یہ واقعہ یوں ہے کہ غزوہ ذی قرد میں مقیس کے بھائی حضرت ہشام بن صبابہ کو ایک انصاری نے غلطی سے دشمن سمجھ کر شہید کر دیا تھا۔مقیس نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللی کم سے اپنے بھائی کے خون سے کا مطالبہ کیا۔آپ نے اس کو دیت دلادی۔اس کے باوجود اس نے اس انصاری کو قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر کتے بھاگ گیا۔آپ نے اس کی اس محاربت و فساد کی وجہ سے اور مقتول انصاری کے قصاص کے طور پر اسے واجب القتل قرار دیا۔(السیرة الحلبیہ غزوہ فتح مکها چنانچہ قبل اس کے کہ یہ آپ سے معافی مانگتا، حضرت تمیلہ بن عبد اللہ نے اس کو بازار میں دیکھ لیا تو قتل کر دیا۔(نسائی کتاب تحریم الدم باب الحام في المرتد ) ایک بہت بڑی واقعاتی دلیل: فتح مکہ کے وقت متعدد افراد کے قتل کا حکم دیا گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ ان میں سے صرف ان چند ایک کے نام لئے جاتے ہیں جو رسول اللہ صلی للی یکم تک پہنچنے سے پہلے قتل ہو گئے تھے۔اگر یہ مقتول شاتمین رسول تھے تو وہ سب بھی جن کو معاف کر دیا گیا تھا ، ان پر بھی تو یہی فردِ جرم عائد ہوئی تھی۔بلکہ معافی پانے والے بعض تو اس مسلک کے قائلین کے مطابق مبینہ گستاخ و شاتم تھے۔اگر شاتم رسول کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا تو ان باقیوں کو کیوں معاف کیا گیا؟ پس آنحضرت صلی علیم کا ان کو معافی دے دینا ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ شاتم کی سزا قتل نہیں ہے۔یہی آپ کا اسوہ ہے جس کی اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے اور یہ آپ کی مستقل سنت ہے جس کی پیروی ہر مومن پر فرض ہے۔رسول اللہ صلی علیم کے اس اُسوے سے آگے قدم رکھنا بذاتِ خود آپ کی شان میں گستاخی ہے۔*****