توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 136 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 136

توہین رسالت کی سزا 136 } قتل نہیں ہے 18 حارث بن نفیل قتل شاتم کے موضوع پر تقریباً ہر کتاب میں اس کے قتل کو بھی توہین و شتم رسول کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔یہ بھی فتح مکہ کے ایام میں رونما ہونے والا واقعہ ہے۔بعض کتب تاریخ میں حارث بن نفیل کا نام حویرث بن نفیذ آیا ہے۔تاریخی تفصیلات سے ثابت ہے کہ یہ شخص اسلام کے خلاف ایک کھلا کھلا محارب تھا۔مسلمانوں کی ایذارسانی میں مسلسل سرگرم عمل تھا۔یہ ایک ظالم ہبار بن اسود کے ساتھیوں میں سے تھا اور حضرت زینب پر حملہ کرنے میں اس کے ساتھ تھا۔اس نے حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ پر بھی حملہ کیا تھا۔مختلف رنگ میں آنحضرت صلی ال یکم کو بھی کئی ایک مرتبہ اذیت دے چکا تھا۔ہجویہ اشعار کے ذریعے لوگوں کو آپ کے اور اسلام کے خلاف انگیخت کر تا تھا۔جو لوگ ملے سے ہجرت کے ارادے سے مدینے جانے کے لئے نکلتے تھے ، یہ ان کے لئے روکیں پیدا کر تا اور انہیں اذیتیں دیتا تھا۔یعنی ہر پہلو سے وہ فساد کا سرغنہ تھا۔اس محاربت کی وجہ سے اس کے قتل کا اعلان کیا گیا تھانہ کہ سب و شتم کی وجہ سے۔قبل اس کے کہ وہ آنحضرت صلی للی نام سے معافی یا امان طلب کرتا، حضرت علی کے سامنے آگیا اور آپ نے اسے قتل کر دیا۔(السیرة الطبیہ غزوہ فتح مکہ وابن ہشام غزوہ فتح مکم) *****