توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 125 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 125

***** توہین رسالت کی سزا 125} قتل نہیں ہے جیسا کہ واضح ہے، زیر بحث روایت کا راوی بھی وہی عکرمہ بر بری خارجی ہے۔اسے جہاں بھی موقع ملا ہے، حضرت ابن عباس کی آڑ لے کر اپنا کام کر گیا ہے۔پس اس کی بیان کردہ روایات پر جنہوں نے اپنے ظالمانہ عقائد یا قانون کی بنیاد رکھی ہے ، ان کی دلیل کی اصلیت ائم نشرح ہے۔پس ان حقائق کے پیش نظر اس روایت کو کسی طرح بھی صحیح حدیث تو کیا ایک عام صحیح بات کے طور پر بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔جھوٹے راویوں نے اس طرح کی اکثر روایات حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کی ہیں اور وہ آپ ہی کے نام سے کتب احادیث میں درج ہوئی ہیں۔چنانچہ اس نوع کی بعض روایات پر گزشتہ صفحات میں کسی قدر بحث ہو چکی ہے۔یہ سب خود ثابت کرتی ہیں کہ یہ واقعات خود بنائے گئے ہیں۔ایسی سب روایات کا جزوی اختلاف بھی انہیں قطعی طور پر وضعی ثابت کرتا ہے۔