توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 121 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 121

توہین رسالت کی سزا 121 } قتل نہیں ہے کی اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے، قسم دیتا ہوں کہ وہ کھڑ ا ہو جائے۔اس پر وہ نابینا کھٹڑ اہوا اور لوگوں کو پھاند تا ہوا، کانپتا ہوا آگے آیا حتی کہ نبی کریم صلی ایم کے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ وہ اس کا خاوند ہے ، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور بُرا بھلا کہتی تھی۔اس نے اسے منع کیا مگر وہ نہ ر کی۔اس نے اسے ڈانٹا لیکن وہ باز نہ آئی۔اس سے اس کے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں۔وہ اس کی رفیقہ حیات تھی مگر رات جب اس نے آپ پر گالی گلوچ کی تو اس نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ میں اتار دیا اور خود اس پر ٹیک لگادی حتی کہ اسے قتل کر دیا۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے۔جہانتک وقوعے کے منظر کا تعلق ہے ، چونکہ اس واقعے کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے، اس مقدمے میں مزعومہ قاتل جو نابینا ہے، خود مجرم بھی ہے ، مدعی بھی اور اگر وقوعے کا کوئی گواہ ہے تو وہ بھی وہ خود ہی ہے۔لہذا اس پر ذرا غور کیا جائے تو حسب ذیل پہلو سامنے آتے ہیں۔مثلاً یہ ذاتی غصہ تھایا کیا تھا؟ کسی کو علم نہیں ہے۔اس کا بھی کوئی گواہ نہیں ہے۔روایت میں واضح طور پر درج ہے کہ گھر میں سب وشتم کا سلسلہ تھا یعنی مقتولہ گالی گلوچ کی عادی تھی۔خاوند مسلسل تنبیہہ کرتا تھا مگر وہ سنتی نہ تھی۔یعنی وہ تو تکار والی بد زبان عورت تھی اور اگر رسول اللہ صلی للی کم کو گالیاں دیتی تھی تو اپنے خاوند کو کیوں نہ دیتی ہو گی۔پس واضح ہے کہ اس کی زبان درازی کی وجہ سے ان کا آپس میں جھگڑا رہتا تھا۔اس موقع پر خاوند نے طیش میں آکر اسے قتل کر دیا۔یعنی غالب امکان ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی للی کم پر سب و شتم وجہ قتل نہ ہو بلکہ ان کا اپنا جھگڑا اور فساد ہو، کوئی ذاتی انگیخت ہو جس میں بوڑھے نے مغلوب الغضب ہو کر اسے قتل کر دیا۔