توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 99 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 99

توہین رسالت کی سزا ۲ 99 } قتل نہیں ہے ابن لہیعہ ، ابو الاسود سے عکرمہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ قلیل العقل تھا۔ما اكذبہ کمال کا جھوٹا شخص تھا۔المغرب (مراکش) کے صفر یہ فرقہ کے خیالات رکھتا تھا۔یکی ابن معین نے بھی اسے صفر یہ خیالات والا قرار دیا ہے۔امام احمد بن حنبل کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ صفری تھا۔:+ ۴ عطاء کا کہنا ہے کہ وہ اباضیہ فرقہ سے منسلک تھا۔مصعب الزبیری کا کہنا ہے کہ وہ خارجی تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمر اپنے غلام نافع کو کہتے تھے کہ اے نافع تیرا بھلا ہو۔مجھ پر اس طرح تو جھوٹ نہ باند ھو جس طرح ابن عباس کی طرف عکرمہ جھوٹ منسوب کر تا تھا۔ے: بعینہ یہی الفاظ حضرت سعید بن المسیب نے اپنے غلام سے کہے تھے۔یجی ابن سعید الانصاری کہتے ہیں کہ عکرمہ کذاب تھا۔104ھ میں عکرمہ کی موت مدینے میں ہوئی۔اس کا جنازہ مسجد میں لایا گیا مگر کسی نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔( یعنی کسی شخص کے مردود ہونے کی یہ انتہاء ہے کہ لوگ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیں) اس کتاب میں ان مذکورہ بالا معلومات کے علاوہ بھی عکرمہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔(تہذیب التہذیب۔الجزء الخامس۔حرف العین، عکرمہ البر بری ابوعبداللہ المدنی مولی ابن عباس۔لعلامہ ابن حجر العسقلانی۔دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع) امام محمد بن احمد عثمان الذہبی اپنی کتاب میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں: