توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 90
توہین رسالت کی سزا H 90 } قتل نہیں ہے زندک، پھر مستقل زندیق شکل اختیار کر گیا ( واللہ اعلم)۔اس کے معنے ہیں۔زندہ کرنا۔اس سے اصطلاحاً ملحد مراد ہے ، کہ يَدَّعِي أَنَّهُ مَعَ اللهِ الهَا آخَرَ وہ اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود قرار دیتا ہے۔پس سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس روایت میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ وہ زندیق تھے اور اس روایت میں ایک ذرہ بھر بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی ال نیم کے شاتم تھے یا آپ کی توہین کرتے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری جب یہ روایت کتاب الجہاد والسیر میں لائے ہیں تو وہاں اس سے پہلے آنحضرت صلی للی کم کا وہ ارشاد بھی لائے ہیں جس میں آپ نے اللہ تعالیٰ کا حوالہ دے کر کسی کو جلانے سے قطعی طور پر منع فرمایا ہے۔جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں دو آدمیوں کے لئے بھجوایا کہ اگر تم فلاں اور فلاں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دو۔جب ہم روانہ ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : "إِنِّي أَمَرْتُكُمْ اَنْ تُحْرِقُوا فُلاناً فُلاناً وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللهُ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا۔کہ میں نے فلاں فلاں کو جلانے کا کہا تھا مگر آگ سے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی عذاب نہیں دیتا۔لہذا اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کر دینا۔یہاں امام بخاری نے اس باب کے عنوان اور اس کی پہلی روایت کے ذریعے بتا دیا ہے کہ اس کے تحت وہ روایت جس میں لوگوں کو جلانے کا ذکر ہے ، اگر اس سے مراد زندوں کو جلانا ہے تو یہ آنحضرت صلی کم کے واضح حکم اور اللہ تعالیٰ کے فرمان سے متصادم ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ امام بخاری پھر یہ روایت کتاب استتابة المرتدین والمعاندین و قتالهم بالحكم المرتد والمرتدة و استنا بتھم میں بھی لائے ہیں۔اس روایت سے پہلے آپ نے حسب ذیل آیات اس طریق اور اس ترتیب پر پیش فرمائی ہیں: