توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 87
توہین رسالت کی سزا :9 87 } ***** شاتم یہودیہ۔ایک اور روایت قتل نہیں ہے سنن ابی داؤد میں ہے : ” حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَن شَيْبَةَ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مُغِيرَةً عَنِ الشَّعْبِي عَنْ عَلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَةٌ كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ عليه السلام وَ تَقَعُ فِيْهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَانَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله دَمَهَا۔“ ( ابو داؤد کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی الا یہ کہ حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت آنحضرت صلی علیم کو گالیاں دیا کرتی تھی، آپ کی بد گوئی اور آپ پر ذختم کرتی تھی۔ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ صلی لیلی کلیم نے اس کا خون باطل قرار دے دیا۔( یعنی اس کا بدلہ نہ دلوایا ) یہ روایت صحاح ستہ میں سے سنن ابی داؤد میں مذکور ہے۔مگر یہ گزشتہ روایات میں مذکور انہی کوائف کے نہ ہونے کے باعث محل نظر ہے۔یعنی نہ مقتولہ کے نام اور جگہ کا علم ہے نہ قاتل کے نام و شناخت کا ذکر ہے۔کس علاقے میں کب یہ واقعہ ہوا، اس کا بھی کوئی ذکر نہیں اس میں لکھا ہے "كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيِّ علبصل و الله کہ وہ آنحضرت صلی الم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔یعنی یہ اس کی مستقل عادت تھی۔اگر ایسا تھا تو اسے اتنی مہلت کیوں دی گئی ؟ اتنا انتظار کیوں کیا گیا ؟ اگر گالیوں کی سزا قتل تھی تو شروع ہی میں اسے قتل کر دیا ہوتا۔