توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 86 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 86

توہین رسالت کی سزا ( 86 ) قتل نہیں ہے اس ضمن میں یہ حقیقت بھی قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گی کہ فقرہ "مَنْ يَكْفِينِي عَدُوّی “ صحاح ستہ میں ایک جگہ بھی مذکور نہیں ہے۔نہ موطا امام مالک میں موجود ہے جو کہ سب سے پہلا اور آنحضرت صلی علیم سے سب سے قریبی زمانہ کا مجموعہ احادیث ہے۔پس ان اولین اور مستند ترین مجموعوں کی روایات میں ایسے فقرے کا نہ ہونا اور مستند ریکارڈ میں نہ آنا ایک حیرت انگیز معمہ ہے۔اگر ایسا کہنار سول اللہ صلی للی یم کی عادت یا سنت ہوتی جو بار بار ظاہر ہوتی تھی تو کم از کم ایک آدھ مرتبہ ہی یہ فقرہ کسی مستند روایت میں ظاہر ہونا چاہئے تھا۔مگر ایسا بالکل نہیں ہوا۔پس اس معمے کا بظاہر حل یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسی روایات وضعی اور جھوٹی ہیں لہذا قابلِ رڈ ہیں۔اس نتیجے تک پہنچنے اور اس کے ثبوت کو بپا یہ یقین تک پہنچانے کے لئے عبد الرزاق اور عکرمہ مولیٰ ابن عباس کا نام کافی ہے۔اس میں اگر کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے تو وہ بیہقی بھی پوری کر دیتا ہے۔جہانتک فقرہ فَاهْدَرَ دَمَهُ یا دَمَهَا‘ کا تعلق ہے ، تو یہ راوی کا بیان ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو رسول اللہ صلی کم کو گالی دیتا تھا یا دیتی تھی اور اسے کوئی قتل کر دیتا تھا تو اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا جاتا تھا۔یہ رسول اللہ صلی علیم پر ایک مفتریانہ جسارت ہے۔اس فقرے کا مطلب قاتل اور وقوعے کا واقعہ قتل کی نوعیت کے پیش نظر یہ ہے کہ چونکہ اس مقتول یا مقتولہ کا کوئی وارث نہیں تھا یا قاتل کے سوا کوئی اور شاہد نہیں تھا۔لہذا اس مقتول یا مقتولہ کا خونبها کسی کو ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ایسے مقدمے میں اگر فیصلہ اس طرح ہوا تھا تو یہ اس مقدمے کی اپنی ایک منفرد نوعیت تھی، کسی مستقل قانون کی حیثیت نہ تھی۔مگر اپنے ہی دوستوں نے اس فقرے کو ہر وضعی اور جعلی روایت کے ساتھ منسلک کر کے اسے رسول اللہ صلی الم کی طرف منسوب کر دیا ہے۔نعوذ باللہ من ذلک