توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 85
توہین رسالت کی سزا ( 85 ) قتل نہیں ہے اُس مسلمان کا عمل حسب ذیل فرمان خدا کے مطابق یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ ایسی گستاخ عورت کو قتل کرنے کی بجائے اس کے گھر کو چھوڑ جاتا اور ایک لمحے کے لئے بھی وہاں نہ ٹھہر تا۔چنانچہ ایسی صور تحال کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَى كُم بِوَكِيْلٍ لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَةٌ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (الانعام :6967) ترجمہ : اور تیری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے حالانکہ وہی حق ہے۔تو کہہ دے کہ میں تم پر ہر گز نگران نہیں ہوں۔ہر پیش خبری کا ایک وقت اور ایک جگہ مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔اور جب تو دیکھے اُن لوگوں کو جو ہماری آیات سے تمسخر کرتے ہیں تو پھر ان سے الگ ہو جا یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔اور اگر کبھی شیطان تجھ سے اس معاملہ میں بھول چوک کروا دے تو یہ یاد آجانے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھ۔***** دشمن کے لئے کافی ہونا اور خون کا اکارت جانا: ایسی روایات میں ہر قاری دیکھ سکتا ہے کہ انہیں گھڑنے والے ٹکسالی کے یہ دو جملے مسلسل لکھتے چلے گئے ہیں کہ ” مَنْ يَكْفِينِي عَدُوّی “ کہ میرے لئے کون میرے دشمن سے نیئے گا اور فَأَهْدَرَ دَمَهُ یا دَمَهَا کہ رسول اللہ صلی لیلی ہم نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔