توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 84
توہین رسالت کی سزا 84 } قتل نہیں ہے اس روایت میں ایک راوی ابن ابی شیبہ ہے۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ ”وَلَهُ ادهام “ کہ وہ خود ہی کوئی بات سوچ لیتا تھا یاوہ وہمی تھا یا لوگ اس کے بارے میں وہم رکھتے تھے یعنی وہ کوئی مستند شخص نہ تھا۔پھر اس قصے میں نہ مقتول یہودیہ کے نام کا ذکر ہے ، نہ قاتل مسلمان کی کوئی شناخت مذکور ہے۔کس علاقے میں وہ پناہ گزین تھا اور چھپنے کی وجہ کیا تھی وغیرہ وغیرہ ایسے سوالات ہیں جن کا اس روایت سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ایسی مہم اور مجہول الحال روایت کس طرح کسی عقیدے یا قانون کی تقویت کا باعث بن سکتی ہے۔بلکہ ایسی روایت تو عقائد کی بنیاد کو کمزور اور کھوکھلا کرتی ہے۔اس کہانی میں مذکور واضح اندرونی تضاد کو محسوس کرنا بھی ضروری ہے کہ ایک تو وہ عورت اسے پناہ دے رہی ہے اور دوسرے رسول اللہ صلی نیلم کو گالیاں بھی دے رہی ہے۔اگر وہ آپ کی دشمن اور بدخواہ تھی تو وہ یہ جانتے ہوئے کہ وہ آپ کا پیروکار ہے ، اس کو پناہ کس طرح دے سکتی تھی ؟ علاوہ ازیں قاتل کا یہ فعل کوئی قابل تعریف تو نہیں ہے کہ اسے اسلام کی عظمت کے طور پر پیش کیا جائے کہ ایک مہمان مردرات کی تاریکی میں (غالباً سوئی ہوئی) عورت کا گلا گھونٹ دے۔یہ تو اس شخص کی بزدلی پر دلیل اور مذہب پر داغ لگانے والی بات ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور۔ہے کہ دیگر جو قصے عورتوں کے قتل پر مشتمل ہیں، تقریباً ان سب میں بھی ایسی ہی غفلت کی حالت میں ان کو قتل کرنے کی کہانی موجود ہے۔جس سے ایک یقینی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ قضے وضعی اور خود تراشیدہ ہیں۔