توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 69
توہین رسالت کی سزا 69 | قتل نہیں ہے اندریں حالات عصماء کے قتل کا ذکر کسی حدیث میں نہ پایا جانا، بلکہ ابتدائی مورخین میں سے بعض مستند مورخین کا بھی اس کے متعلق خاموش ہونا اس بات کو ایک حد تک یقینی بنادیتا ہے کہ یہ قصہ بناوٹی ہے اور کسی طرح بعض روایتوں میں راہ پا کر تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔پھر اگر اس کہانی کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے اندرونی تضادات و اختلافات سے اس کا وضعی ہونا اور بھی یقینی ہو جاتا ہے۔کیونکہ تاریخ ابن سعد وغیرہ کی روایت میں عصماء کے قاتل کا نام عمیر بن عدی بیان کیا گیا ہے۔سیرت کی کتاب الشفاء میں عمیر بن عدی کو عصماء کی قوم ( بنی خطمہ ) کا ایک شخص قرار دیا ہے۔(شرح الشفاء جلد 2 صفحہ 406 باب الاول فی بیان ماحوفی حقہ علیہ السلام سب او نقص) لیکن اس کے مقابلہ میں ابن درید کی روایت میں قاتل کا نام عمیر بن عدی نہیں بلکہ عمشیر ہے۔(زرقانی، قتل عمیر العصماء) سہیلی ان دونوں ناموں کو غلط قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ دراصل عصماء کو اس کے خاوند نے قتل کیا تھا۔(الروض الانف ، غزوات علی ابن طالب الی الیمن) جس کا نام روایتوں میں یزید بن یزید بیان ہوا ہے۔( ابن ہشام ، غزوۃ عمیر بن عدی الخطمی لقتل عصماء بنت مروان ) اور پھر بعض روایتوں میں یہ آتا ہے کہ مذکورہ بالا لوگوں میں سے کوئی بھی عصماء کا قاتل نہیں تھا بلکہ اس کا قاتل ایک نامعلوم الاسم شخص تھا جو اسی کی قوم میں سے تھا۔(زرقانی، زرقانی، قتل عمیر العصماء) مقتولہ کا نام ابن سعد وغیرہ نے عصماء بنت مروان بیان کیا ہے، لیکن علامہ عبد البر کا یہ قول ہے کہ وہ عصماء بنت مروان نہیں تھی بلکہ دراصل عمیر نے اپنی بہن بنت عدی کو قتل کیا تھا۔( الاستیعاب، عمیر بن عدي الخطمی ) قتل کا وقت ابن سعد نے رات کا درمیانی حصہ لیکن زرقانی کی روایت سے دن یا زیادہ سے زیادہ رات کا ابتدائی حصہ ثابت ہوتا ہے لکھا ہے کیونکہ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مقتولہ اُس وقت کھجوریں بیچ رہی تھی۔(زرقانی ، قتل عمیر العصماء) الغرض قاتل اور مقتولہ کے اسماء، جملہ تفصیلات، کوائف، واقعات اور اوقات میں اس