توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 68 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 68

توہین رسالت کی سزا 68 } قتل نہیں ہے محققین پر پہنچتی تھی خواہ وہ روایت و درایت دونوں لحاظ سے کمزور اور نا قابل اعتماد ہوتی تو بھی وہ اُسے اپنے مجموعے میں جگہ دے دیتے تھے۔وہ اس بات کا فیصلہ مجتہد علماء پر یا بعد میں آنے والے چھوڑ دیتے تھے کہ وہ اصولِ روایت و درایت کے مطابق صحیح و سقیم کا خود فیصلہ کر لیں۔ایسا کرنے میں اُن کی نیت یہ ہوتی تھی کہ کوئی بات جو آنحضرت صلی الم اور آپ کے صحابہ کی طرف منسوب ہوتی ہے خواہ وہ درست نظر آئے یا غلط، وہ ذخیرے میں شامل ہونے سے نہ رہ جائے۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ابتدائی کتابوں میں ہر قسم کے رطب و یابس کا ذخیرہ جمع ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ سب قابل قبول ہیں۔بلکہ اب ہر اس محب و عاشق رسول کا کام ہے جو تحقیق کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ قرآن کریم کو حکم بنا کر اس غبار کو جو ایسی غلط اور منفی روایات نے محسن انسانیت ہمارے آقا و مولی رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی الی یکم کے پاک اور حسین چہرے پر ڈالا ہے ، صاف کرنے کے لئے ان میں سے غلط کو صحیح، منفی کو مثبت اور کمزور کو مضبوط سے جدا کر دے۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم، انسانیت اور انسانی خون کے محافظ رسول اللہ صلی الیکم کی طرف غلط، منفی اور کمزور باتیں منسوب ہوں۔بہر حال اس بات میں ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں ہے کہ کسی مسلمان محدث یا مورخ نے کبھی کسی روایت کو محض اس بناء پر رڈ کیا ہو کہ وہ بظاہر آنحضرت صلی اللہ کم یا صحابہ کی شان کے خلاف ہے یا یہ کہ اس کی وجہ سے آپ پر یا اسلام پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے۔چنانچہ کعب بن اشرف اور ابو رافع یہودی کے قتل کے واقعات جن کا ذکر گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے، نفس مضمون کے لحاظ سے عصماء اور اس قسم کے دیگر مزعومہ واقعات سے بالکل ملتے جلتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ حدیث اور تاریخ کی تمام کتابوں میں وہ پوری صراحت اور تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور کسی مسلمان راوی، محدث یا مورخ نے ان کو ترک نہیں کیا۔