توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 67
توہین رسالت کی سزا { 67 ) قتل نہیں ہے (ابو داؤد کتاب الحد و دو باب الحکم فی من سب میں بیشک ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے جو عصماء کے قتل کے واقعے سے کچھ ملتا جلتا ہے۔خصوصاً وہاں بھی عورت کا قاتل ایک نابینا ہے اور یہاں بھی۔لیکن اول تو اس میں قاتل و مقتول کے نام بیان نہیں کئے گئے۔دوسرے اس کی بعض تفصیلات بھی اس واقعے کی تفصیلات سے نہیں ملتیں۔ابو داؤد کی یہ روایت بھی قتل شاتم کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔اس پر آئندہ صفحات میں الگ بحث کی جارہی ہے۔) پھر عصماء کے واقعے کا حدیث ہونا تو دور کی بات ہے، اس کا تو بعض مورخین نے بھی ذکر تک نہیں کیا۔حالانکہ اگر حقیقت میں اس قسم کا واقعہ ہوا ہو تا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ کتب حدیث اور بعض کتب تاریخ اس کے ذکر سے خالی ہو تیں۔اس جگہ یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ چونکہ اس قسم کے واقعات سے بظاہر آنحضرت صلی ام اور آپ کے صحابہ کے خلاف ایک گونہ اعتراض وارد ہو تا تھا۔اس لئے محدثین اور بعض مورخین نے ان کا ذکر ترک کر دیا ہو گا۔اس کی اوّل وجہ تو یہ ہے کہ اُن حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن میں وہ وقوع پذیر ہوئے، یہ واقعات قابل اعتراض نہیں ہیں۔دوسرے جو شخص حدیث و تاریخ کا معمولی مطالعہ بھی رکھتا ہے، اس سے یہ بات مخفی نہیں ہو سکتی کہ امام بخاری اور امام مسلم جیسے جامع اور مستند ترین محدث سے لے کر واقدی اور عبد الرزاق جیسے وضاعوں تک مسلمان محدثین و مورخین نے کبھی کسی روایت کے ذکر کو محض اس بناء پر ترک نہیں کیا کہ اس سے اسلام اور بانی اسلام پر بظاہر اعتراض وارد ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مسلمہ طریق تھا کہ جس بات کو بھی ازروئے روایت صحیح پاتے یا سمجھتے تھے اُسے نقل کرنے میں وہ اس کے مضمون کی وجہ سے قطعاً کوئی تامل نہیں کرتے تھے۔بلکہ اُن میں سے بعض محدثین اور اکثر مور خین کا تو یہ طریق تھا کہ آنحضرت صلی علی یم اور آپ کے صحابہ کے متعلق جو بات بھی انہیں