توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 50
توہین رسالت کی سزا ( 50 ) قتل نہیں ہے 66 لہذا آپ نے بعض صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ اُسے قتل کر دیا جائے۔( ابو داؤد کتاب الخراج۔۔۔باب کیف كان اخراج اليهود من المدينة و بخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن اشرف) آپ کا یہ فیصلہ محارب اور باغی کے بارے میں دونوں مذہبوں کی تعلیمات کے عین مطابق اور میثاق مدینہ کے عین موافق تھا۔لیکن اُس وقت چونکہ کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینے کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو مدینے میں ایک خطر ناک خانہ جنگی شروع ہو جانے کا پورا پورا احتمال تھا۔جس میں نہ معلوم کیسا کشت و خون ہو تا اور آنحضرت صلی ا ونم کی فطرت ایسی تھی کہ آپ خود ہر ممکن اور جائز قربانی کر کے بین الا قوام کشت و خون کو روکنا چاہتے تھے۔قرآن کریم میں عوام الناس کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم نازل فرمائی ہے فَقَاتِلُوا آبِيَّةَ الْكُفْرِ (التوبہ: 12 ) کہ جب وہ اپنا معاہدہ توڑیں تو تم ائمۃ التکفیر سے قتال کرو۔چنانچہ آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب کو سر عام قتل نہ کیا جاوے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اُسے قتل کر دیں تاکہ عامۃ الناس نہ بھڑک اٹھیں۔لہذایہ فریضہ آپ نے قبیلہ اوس کے ایک فدائی صحابی محمد بن مسلمین کے سپر د فرمایا۔آپ نے انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورے سے کریں۔(زرقانی ، قتل کعب بن اشرف) محمد بن مسلمہؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! قتل کے لئے اس سے کوئی بات تو کہنی ہو گی۔یعنی کوئی عذر وغیرہ بنانا پڑے گا۔جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ پر قتل کیا جاسکے۔آپ نے ان عظیم الشان اثرات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو اس موقع پر ایک خاموش سزا کے طریق کو چھوڑنے سے پیدا ہو سکتے تھے فرمایا 'اچھا'۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورے سے ابو نائلہ اور دو تین اور ساتھیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو اس کے اندرونِ خانہ سے بلا کر کہا: ” ہمارے صاحب ( یعنی محمد رسول اللہ صلی یکی ) ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم تنگ حال ہیں۔کیا تم مہربانی کر کے ہمیں کچھ