توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 44
توہین رسالت کی سزا ( 44 )- قتل نہیں ہے سے واضح ہے کہ یہ دونوں وہ یہودی لیڈر تھے جو اپنے اموال خرچ کر کے انفرادی طور پر بھی لوگوں کو اور عرب قبائل کو بھی اسلام کے خلاف بھڑ کانے اور جنگ کے لئے انگیخت کرنے میں پیش پیش تھے۔یہاں یہ مڈ نظر رہے کہ وہ زمانہ آج کے زمانے کی طرح نہیں تھا کہ جہاں منظم ، مقام اور معین حکومتیں قائم تھیں۔نہ ایک حکومت کا دائرہ خاص طور پر ایک مخصوص رقبے یا علاقے پر جغرافیائی حدود میں منضبط تھا اور اس کے ساتھ ایک دوسری حکومت کا دائرہ ایک اور جغرافیائی حدود سے محدود و معتین تھا۔بلکہ اُس زمانے میں عرب سب قبائل و اقوام کا ایک مشترک ملک تھا۔اس ملک میں علاقائی تقسیمیں بھی سیاسی و علاقائی تقسیمیں نہیں تھیں۔بلکہ وہ محض قبائلی اور قومی تقسیمیں تھیں جو حکومتوں کے درمیان کوئی جغرافیائی یا نظریاتی حدیں نہیں کھینچتی تھیں۔عرب میں سب ایک دوسرے کے حلیف بن کر باہمی دوستیوں کے معاہدوں اور دشمنوں کے خلاف اکٹھے اور متحد ہونے کے معاہدوں کی صورت میں رہتے تھے۔چنانچہ اس زمانے میں اگر کوئی عہد شکنی کی جاتی تھی تو جس کے خلاف عہد شکنی کی جاتی تھی اسے بھی تمام اخلاقی اور مروجہ قانونی بنیادوں کے تحت حق تھا کہ وہ اس کی سزا مقرر کرے یا عملاً سزا دے۔اس کے اس حق پر کسی کو کوئی اعتراض کا حق نہیں تھا۔آنحضرت صلی ا ہم نے ان دونوں مذکورہ بالا سرغنوں کی مختلف سازشوں اور محار بانہ کارروائیوں کو انتہاء تک برداشت کیا۔مگر وہ تھے کہ اسلام کے خلاف اپنی سازشوں میں کسی مقام پر رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔یہاں کوئی بھی انصاف پسند اگر تجزیہ کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت ان پر محاربت اور بغاوت کی فردِ جرم عائد ہوتی تھی۔لہذا ان دونوں کے قتل کو آنحضرت صلی کم کی شان میں گستاخی یا آپ پر سب و شتم کے نتیجے میں قتل