توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 43 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 43

توہین رسالت کی سزا باب دوم { 43 ) قتل نہیں ہے ان روایات پر محاکمہ جو قتل شاتم و گستاخ رسول کے قائل اپنے موقف میں پیش کرتے ہیں ***** اس باب میں مختلف کتب سے ایسی روایات لے کر ان پر حقیقت افروز بحث کی گئی ہے جو شتم و توہین رسول کے قتل کی دلیل کے طور پر متفرق مصنفین نے پیش کی ہیں۔ان کے علاوہ بھی اگاؤ کا روایات ایسی ہیں جنہیں اس لئے ترک کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اندرونی خود تضادی و خود تر دیدی اور پراگندگی کی شکار اور بے حوالہ و بے بنیاد ہیں۔ان کے وضعی اور جعلی ہونے کی وہ خود ثبوت ہیں۔مگر یہ روایات جو اس باب میں زیر بحث لائی گئی ہیں، وہ ہیں جو توہین رسالت کی سزا قتل کے قائل اس مسئلے میں بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔قارئین ملاحظہ فرمائیں گے کہ ان میں سے بھی بعض وہ ہیں جو واضح طور پر وضعی ہیں، بعض ایسی ہیں جن سے استدلال غلط کیا گیا ہے اور بعض ایسی ہیں جو کسی طرح بھی سب و شتم کے مسئلے میں نہیں لی جاسکتیں۔مگر انہیں گھسیٹ کر اس مسئلے میں لایا گیا ہے۔بہر حال ذیل میں ریخ اسلام سے خون کے دھبوں کی صفائی، رسول اللہ صلی ال نیم کی رحیم و کریم ذات کے ناموس کی حفاظت اور آپ کی پاک ذات کو آپ کی طرف منسوب کئے گئے جھوٹے خون سے پاک کرنے کے لئے ہر روایت پر دلائل اور وجوہات کے ساتھ تفصیلی بحث کی گئی ہے۔گستاخ و شاتم رسول کے قتل کے سلسلے میں عموماً پہلے جو مثالیں یا دلیلیں پیش کی جاتی ہیں وہ دو یہودی سرداروں، کعب بن اشرف اور دوسری ابو رافع کی ہیں۔تاریخ کے مستند ریکارڈ