توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 39 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 39

توہین رسالت کی سزا ہے: { 39 ) قتل نہیں ہے پھر اللہ تعالیٰ بد زبانوں کی دشنام دہی اور بد زبانی پر ایک اور ہدایت دیتے ہوئے فرماتا وَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلاً “ (المزمل:11) ترجمہ: اور صبر کر اُس پر جو وہ کہتے ہیں اور اُن سے اچھے رنگ میں جدا ہو جا۔یہ اسی تعلیم کا دوسرا رُخ ہے جو گزشتہ صفحات میں سورۃ النساء کی آیت 141 میں بیان کیا گیا ہے کہ ” فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا نِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ کہ ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں۔یعنی لڑائی جھگڑے اور مار کٹائی کی بجائے پہلو تہی کرتے ہوئے اس مجلس سے اچھے طریق پر اٹھ آنا چاہئے۔اس قدر ضبط و احتیاط کی لاثانی تعلیم دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔کیونکہ جب عقائد اور ایمان کے جذبات جھوٹی باتوں اور باطل کلام کے ذریعے مجروح کئے جارہے ہوں تو صبر وضبط کے بندھن ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔جذبات کی ایسی انگیخت کے وقت ہجر جمیل یعنی اچھے طریق پر جدا ہونا انتہائی مشکل کام ہے۔لیکن امن عامہ کے قیام اور مخالفوں کو شر مندہ اور اسلام کی تعلیم کی طرف مائل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے یہ ایک مجرب نسخہ ہے جو ہمیشہ کار گر رہا ہے۔یہ نسخہ رسول اللہ صلی الیم کو عطا کیا گیا اور آپ نے اسے ہر جگہ آزمایا اور اپنے متبعین کو اسے بروئے کار لانے کی تلقین فرمائی۔