توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 36 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 36

توہین رسالت کی سزا { 36 ) قتل نہیں ہے اور تنگی میں بھی اور غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں۔اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔سبحان اللہ ! کیا خوبصورت تعلیم ہے کہ نہ صرف یہ کہ غصے کو پی جانا ہے بلکہ لوگوں کو معاف کرنا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان پر احسان کرنا ہے۔یہ نمایاں اور امتیازی کر دار ہے جو رسول اللہ صلی الی یوم نے بار بار پیش فرمایا اور مومنوں میں پیدا فرمایا۔کیا ایسی تعلیم کوئی اور مذہب پیش کر سکتا ہے؟ کیا ایسی تعلیم ہر اس تلوار ، ہر تیر اور ہر خنجر کو کند نہیں کر دیتی جو رسول اللہ صلی الل نیلم کے نام پر قتل و غارت کے لئے سونتی گئی ہو۔کیا قتیل عفو و احسان بہتر نہیں ہے مقتول تیغ و تفنگ سے ؟ لازماً اور یقیناً کشتہ لطف و کرم بہتر ہے اور لاکھ درجے بہتر ہے۔پھر قائلین قتل شاتم کیوں از راہِ ظلم گھاٹے اور خسارے کا سودا کرتے ہیں۔وو " فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ “(الاحقاف:36) ترجمہ : پس صبر کر جیسے اولو العزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے بارہ میں جلد بازی سے کام نہ لے۔اگر دیگر انبیاء اولو العزم تھے اور دامن صبر کو تھامنے والے تھے تو رسول اللہ صلی ا لم تو ان کے اوصاف کے جامع تھے۔آپ ان سے ہزار گنا بڑھ کر صبار اور صاحب شکیبائی تھے۔آپ ہر گز ہر گز کسی کی بد زبانی پر انگیخت ہونے والے نہیں تھے اور نہ کبھی ہوئے۔وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ “ (الشوری:44 ) ترجمہ : اور جو صبر کرے اور بخش دے تو یقینا یہ اولو العزم باتوں میں سے ہے۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ صبر و حوصلہ اور دوسرے کے گناہ معاف کرنا اور اس کے لئے مغفرت طلب کرنا ایسے کام ہیں جو ترقی و کمال کے زینے ہیں۔مسلمان اگر ترقی اور عروج حاصل