توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 27 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 27

توہین رسالت کی سزا ( 27 )- قتل نہیں ہے فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (الرعد:41) ترجمہ: تو (ہر صورت) تیراکام صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی پیغام دیا ہے کہ حساب لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔یہ کسی اور کے اختیار میں نہیں دیا گیا۔کوئی اسلام کا انکار کر کے کفر اختیار کرے یا سب و شتم رسول کی وجہ سے کافر قرار دے دیا جائے (جیسا کہ بعض مفتی کہتے ہیں کہ شتم رسول سے کفر لازم آتا ہے )، اس کے قتل کا کسی کو اختیار نہیں دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے لفظ ”عَلَيْكَ “استعمال فرما کر ایسے شخص کو احسن رنگ میں پیغام پہنچانا فرض قرار دیا ہے اور کفر سے باز نہ آنے والے یا پیغام کو ذکر دینے والے کے حساب کا ذمہ اپنے پر لیا ہے۔اس واضح اور جامع ارشادِ باری تعالیٰ کے ہوتے ہوئے کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کا حساب اپنے ذمہ لے کر اس پر کفر کا فتوی دے اور اسے واجب القتل قرار دے۔زبان کے زخم کہتے ہیں کہ زبان کے زخم نیزوں کے زخموں سے زیادہ گہرے اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔جیسا کہ ایک شاعر کہتا ہے۔جَرَاحَاتُ السِّنَانِ لَهَا الْتِنَامُ وَلَا يَلْتَامُ مَا جَرَحَتْ لِسَانُ کہ نیزوں کے لگائے ہوئے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں مگر زبان کے لگائے گئے زخم کا اند مال نہیں ہے۔