توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 388
توہین رسالت کی سزا 388) قتل نہیں ہے حکومتوں میں بھی ایک طبقہ کھل کر اسلام اور رسول اللہ صلی اللی کمر پر اس بیہودہ گوئی کے خلاف اظہارِ خیال کرنے والا نکل آئے گا۔♡: :i :ii واضح ثبوتوں کے ساتھ دنیا کی حکومتوں نیز UNO کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب ہے جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہر ایک قوم کے نبی کو مانا اور انہیں اپنا بی قرار دیا۔:iii تمام دُنیا میں یہ فخر خاص صرف قرآن شریف کو حاصل ہے۔جس نے دُنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی که لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔(البقره:137 و ال عمران: 85 ) یعنی تم اے مسلمانو! یہ کہو کہ ہم دنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور ان میں تفریق نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو رڈ کر دیں۔ایسی صلح کار کوئی اور الہامی کتاب دنیا میں نہیں ہے۔قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی رحمتِ عامہ کو کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔اسرائیلی خاندان کے جتنے نبی تھے کیا یعقوب ، کیا اسحق، کیا موسی، کیا داؤ د اور کیا عیسی علیہم السلام سب کی نبوت کو مان لیا۔اسی طرح ہر ایک قوم کے نبی جو خواہ وہ ہندوستان میں گزرے ہیں، فارس میں یا دنیا کے کسی اور خطے میں گزرے ہوں، کسی کی تکذیب نہیں کی بلکہ ہر ایک کو ایمان کا لازمی جزو بنایا۔اس طرح تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی۔مگر افسوس کہ اس صلح بجو اور صلح پسند نبی کو گالیاں دی جاتی ہیں اور توہین و تنقیص کی جاتی ہے۔الغرض ایک مضبوط، محکم ، مسلسل اور مخلصانہ جدو جہد اور جہاد کی ضرورت ہے کہ ایسے مثبت، بچے اور حقیقی اقدام اس حد تک کئے جائیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم پر اٹھنے والا ہر تیر