توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 19 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 19

***** توہین رسالت کی سزا { 19 } قتل نہیں ہے وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيْلِ هِ لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَةٌ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ“ (الانعام:67 (69) ترجمہ: اور تیری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے حالانکہ وہی حق ہے۔تو کہہ دے کہ میں تم پر ہر گز نگران نہیں ہوں۔ہر پیش خبری کا ایک وقت اور ایک جگہ مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔اور جب تو دیکھے اُن لوگوں کو جو ہماری آیات سے تمسخر کرتے ہیں تو پھر ان سے الگ ہو جا یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔اور اگر کبھی شیطان تجھ سے اس معاملہ میں بھول چوک کروا دے تو یہ یاد آجانے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھ۔رسول اللہ صلی العلیم کی تکذیب یعنی آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا قرار دینا تو ہین سے بھی شدید تر ہے۔مگر اس کے باوجو د آیت میں مذکور تعلیم ہے جو توہین کے مقابل پر اور اس کے رد عمل کے طور پر ہے۔یہ تعلیم ہے جو امن عامہ کی ضامن ہے۔جو قتل و خون میں مانع ہے۔جو دشمنوں کو بھی دوستوں میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔چونکہ نبی کے کاموں میں سے ایک بڑا کام انسان کو قتل و غارت سے بچانا اور اسے امن و سلامتی میں لے کر آنا ہوتا ہے۔اس لئے وہ خود بھی یہی نمونہ دکھاتا ہے اور اپنے متبعین کو بھی ہر طرح کے جسمانی یا جذباتی جبر و تشدد پر عفو و در گزر اور صبر و استقامت اور معاف کرنے کے ایسے اسلوب سکھاتا ہے کہ وو وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (الشوری:44 ) کہ جو صبر کرے اور بخش دے تو یقینا یہ اُولو العزم باتوں میں سے ہے۔