توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 329
توہین رسالت کی سزا 329 H قتل نہیں ہے پاس والوں کی جان، مال، مذہب، ملک، زمین، حاضر ، غائب اور ان کی عبادت گاہوں کے لئے اللہ تعالیٰ اور محمد نبی ا کی ذمہ داری ہے۔نہ تو کوئی استقف اس کے منصب سے ، نہ کوئی راہب اس کی رہبانیت سے ، اور نہ کوئی کا ہن اس کی کہانت سے ہٹایا جائے گا۔“ (ابن سعد ذکر وفادات وفد نجران) آنحضرت صلی الی یکم نے انہیں ایک اور معاہدے پر مبنی حسب ذیل تحریر بھی دی: (مِنْ مُحَمَّدِ النَّبِيِّ ) لِأَسْقُفِ أَبِ الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ وَ أَسَاقِفَةِ نَجْرَانَ وَكَهَنَتِهِمْ وَمَنْ تَبِعَهُمْ وَرُهْبَانِهِمْ أَنَّ لَهُمْ عَلَى مَا تَحْتَ أَيْدِيهِمْ مِنْ قَلِيْلٍ وَكَثِيرٍ مِنْ بِيَعِهِمْ وَصَلَوْتِهِمْ وَرَهْبَانِيَّتِهِمْ ، جَوَادُ اللهِ وَرَسُولِهِ لَا يُغَيَّرُ أَسْقُفُ عَنْ أَسْقُفِيَّتِهِ، وَلَا رَاهِبٌ مِنْ رَهْبَانِيَّتِهِ، وَلَا كَاهِنَّ عَنْ كَهَانَتِهِ وَلَا يُغَيَّرُ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِهِمْ لَا سُلْطَانِهِمْ وَلَا شَيءٍ مِمَّا كَانُوا عَلَيْهِ (مِنْ ذلِكَ، جَوَارُ اللهِ وَ رَسُولِهِ أَبَداً مَا نَصَحُوا وَأَصْلَحُوْا فِيْمَا عَلَيْهِمْ غَيْرَ مُثْقِلِينَ بِظُلْمٍ وَلَا ظالِمِینَ۔ترجمہ: محمد نبی صلی اللی کم کی طرف سے اسقف ابو حارث کے لئے اور نجران کے دیگر پادریوں، کاہنوں، اور ان کے پیروکاروں اور راہبوں اور ان کے تھوڑے بہت متبعین کے لئے اور ان کے گرجوں، عبادت گاہوں وغیرہ کے لئے امان ہے۔ان کے پادریوں میں سے کسی کو اس کے منصب سے، ان کے راہبوں میں سے کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے اور ان کے کاہنوں میں سے کسی کا ہن کو اس کی کہانت سے قطعا بر طرف نہیں کیا جائے گا۔انہیں ان کے حقوق اور ان کے اختیارات سے جن پر وہ قائم ہیں ، ہٹایا نہیں جائے گا۔جب تک وہ خیر خواہ اور صلح جو ر ہیں گے یا ظالموں کے ساتھ ظلم ڈھانے والے نہ ہوں گے ، انہیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ حاصل رہے گی۔