توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 312 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 312

توہین رسالت کی سزا { 312 قتل نہیں ہے کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔بعد میں اس پر زمانے کی گرد چڑھ گئی اور یہ کالعدم ہو گیا۔رسول اللہ صلی ال کم کی جوانی کے زمانے میں آپ کے چا زبیر بن عبد المطلب نے اس کی تجدید کی تو آپ اس کے مستعد اور فقال ممبر بنے اور عملاً لوگوں کے حقوق دلوانے اور ان کے بوجھ ہلکے کرنے میں سب سے بڑھ کر سر گرم عمل تھے۔نبوت کے زمانے میں آپ فرماتے تھے : ” میرے لئے اس تنظیم ) میں شامل ہونے کی خوشی اونٹوں جیسی نعمت سے بھی بڑھ کر ہے۔مجھے اس معاہدے کا حوالہ دے کر اگر اب بھی مدد کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور مدد کروں گا۔“ ( ابن ہشام۔حلف الفضول، حدیث رسول الله عن حلف الفضول۔مطبعہ توفیقیہ بمصر ) حجر اسود کا قضیہ : رسول اللہ صلی لی ہم نہ صرف لڑائی جھگڑے سے خود بچتے تھے بلکہ آپ نے لوگوں کو بھی اس سے بچانے میں ایک اہم اور موئثر کردار ادا کیا۔چنانچہ آپ کے سریر آرائے نبوت ہونے سے بہت پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش مکہ نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا۔تعمیر کے وقت دیوار جب حجر اسود کی بلندی کے برابر پہنچی تو قبائل قریش میں یہ جھگڑا ہو گیا کہ کون سا قبیلہ اسے اس کی جگہ پر رکھے۔بحث و تکرار میں نوبت یہانتک پہنچ گئی کہ سبھی لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو گئے۔بعض نے تو زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق خون میں انگلیاں ڈبو کر قسمیں بھی کھالیں کہ مر جائیں گے مگر اس اعزاز کو اپنے قبیلے سے باہر نہ جانے دیں گے۔آخر یہ تجویز پیش ہوئی کہ صبح جو شخص سب سے پہلے حرم میں آئے گا وہی بطور حکم اس قضیے کا فیصلہ کرے گا۔یہ ایک ایسی مشکل صور تحال تھی کہ قبائل کی ضد، خود غرضی اور عصبیت کے پیش نظر یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ سوائے آپ کے کوئی اور اسے حل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا تھا۔چنانچہ صبح آپ ہی تھے جو سب