توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 303
توہین رسالت کی سزا { 303 ) قتل نہیں ہے قاضی عیاض سپین کے مفتی تھے۔ان کے فتووں کی سند اور ان کی حقیقت ، اس مثال سے ظاہر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ فتویٰ امام مالک کا ہے۔لیکن امام مالک کی کسی اور کتاب کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔کس نے یہ روایت کی ہے ؟ اس کا بھی کچھ پتا نہیں۔موطا امام مالک میں تو کسی ایسے فتوے کا ذکر نہیں ہے۔یعنی محض ایک بے حوالہ اور بے سند بات لکھی ہے۔الغرض ایک وضعی واقعہ ہے جو امام مالک کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آپ شریعت کے کامل پابند اور اس کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔قرآن کریم کی تعلیمات کا انتہائی عرفان رکھتے تھے۔روایات کی جانچ پڑتال اور چھان پھٹک پر بھی گہری دسترس تھی۔لہذا آپ کسی مسئلے میں رسول اللہ صلی الی یم اور خلیفہ الرسول کے قول اور عمل سے متصادم فتوی نہیں دے سکتے تھے۔پس واضح طور پر ایسی بات ان کی طرف از راہ افتراء منسوب کی گئی ہے۔جہانتک اس بات کا تعلق ہے جو امام مالک کی طرف منسوب کی گئی ہے کہ ” امت کے نبی صلی اللہ علم کو گالی دی جائے اور امت اسے ختم نہ کرے تو کیا ایسی امت زندہ رہ سکتی ہے ؟“ یہ کلام ہی بتاتا ہے کہ ایسا ہر گز امام مالک کی زبانِ مبارک سے ادا نہیں ہوا۔کیونکہ رسول اللہ صلی ال ایم کی مبارک زندگی میں متعد دلوگوں نے رسول اللہ صلی علی کیم پر سب کی۔آپ کے روبرو آپ کی گستاخی کی۔نہ آپ نے انہیں قتل کیا نہ صحابہ نے۔لیکن امت پھر بھی زندہ رہی، پنپتی بھی رہی اور بڑھتی بھی رہی۔تاریخ ام شاہد ہے کہ کسی کی گالی سے نہ کسی امت کی زندگی ختم ہوتی ہے نہ کسی شاتم کو قتل کرنے سے کسی امت میں زندگی پید اہوتی ہے۔یہ ایسی نامعقول بات ہے کہ امام مالک کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔علاوہ ازیں اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی یکم نے آخری زمانے میں احیائے اسلام کی پیشگوئیاں کی ہیں۔اس زمانے میں آپ کی تکذیب اور آپ کی شان میں