توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 276
توہین رسالت کی سزا { 276 H قتل نہیں ہے وہ مزید لکھتا ہے: ”اگر ہم حضرت محمد (صلی م ) اور اُن کے تابعین کے چال چلن پر غور کریں تو ایسا معلوم ہو گا کہ اب وہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ عقبہ کے موضوع و مقبول اخلاقی قواعد کی پابندی اُن کے لئے ضروری نہ تھی۔اب خدا ان سے فقط یہی ایک بات طلب کر تا تھا کہ اللہ کی راہ میں لڑیں اور تیغ و تیر اور خنجر و شمشیر سے قتل پر قتل کرتے رہیں۔“ ( میزان الحق صفحہ :499) اور اس کے بعد یہ مصنف حضرت مسیح کی مظلومی کا بڑے فخر سے نعوذ باللہ حضرت رسول اکرم صلی ال نیلم کے مزعومہ جبر کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: آپ کو خداوند یسوع مسیح کلمۃ اللہ اور حضرت محمد (صلی ) بن عبد اللہ میں سے ایک کو پسند کرنا ہے۔یا تو اس کو پسند کرنا ہے جو نیکی کرتا پھر ا یا اُس کو جو ”النبی بالسیف “کہلاتا ہے۔(تتمہ ، میزان الحق) پھر مولانا مودودی کی تائید میں ایک اور اسلام دشمن مسٹر ہنری کوپی Copey ) ( Henry کے مندرجہ ذیل الفاظ پڑھئے: وو۔۔۔۔۔اور اپنی نبوت کے تیرھویں سال آپ نے اس امر کا اظہار کیا کہ خدا نے مجھ کونہ صرف بغرض مدافعت جنگ کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ اپنا دین بزور شمشیر پھیلانے کی بھی اجازت دی ہے۔اہل عرب کی سپین کی تاریخ از ہنر یوپی جلد اول صفحہ 39 مطبوعہ بوسٹن ماخوذ از ” مقدمہ تحقیق الجہاد" صفحہ:31) اور ڈاکٹر اے سپر نگر (Aloy Spranger) کے یہ الفاظ پڑھئے جو مولانا مودودی کی ہم خیالی میں اس رائے کا اظہار کرتے ہیں:۔