توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 12 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 12

توہین رسالت کی سزا ( 12 )- قتل نہیں ہے قرآن کریم میں دیگر انبیاء اور ان کے متبعین کی اذیتوں کا بھی ذکر کثرت سے موجود ہے جو اُن کے مخالفوں نے انہیں دیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کا بھی ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اس صبر کی وجہ سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔فرمایا: وَلَقَدْ كُذِبَتْ رُسُلٌ مِن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِبُوا وَأُوْذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ وَلَقَدْ جَاءَ كَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ “ (الانعام: 35) ترجمہ : اور یقیناً تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے تھے اور انہوں نے اس پر کہ وہ جھٹلائے گئے اور بہت اذیت دیئے گئے، صبر کیا یہاں تک کہ ان تک ہماری مدد آپہنچی۔اور اللہ کے کلمات کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں اور یقینا تیرے پاس مرسلین کی خبریں آچکی ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور بتایا ہے کہ کسی کو قتل کرنے سے نہیں بلکہ اذیتوں پر صبر اختیار کرنے سے اللہ کی مدد اترتی ہے۔نیز تنبیہ فرمائی کہ یہی ذریعہ ہے اللہ کی مدد کے مستحق بننے کا کہ تکذیب اور اذیتوں پر صبر کرو۔وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ یہ وہ طریق ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔حیرت ہے کہ اس واضح تعلیم کو ترک کر کے قتل وغارت گری کے طریقوں کو کیوں اپنایا جاتا ہے۔بلکہ یہانتک ظلم کیا جاتا ہے کہ اس کشت و خون کو رسول اللہ صلی ا یلم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔حالانکہ آپ ہر قسم کی قربانی کر کے دوسروں کو سکھ پہنچانے کی کوشش فرماتے تھے۔ان کی بھلائی کے لئے اپنی جان کو گو یا ہلاکت تک پہنچا دیتے تھے۔آپ کو تعلیم یہ تھی کہ