توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 245 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 245

توہین رسالت کی سزا (245 } قتل نہیں ہے وہ آدمی ، جسے انہوں نے اراشہ کے تعاقب میں بھیجا تھا، جب واپس رؤسائے قریش کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے روئیداد سنی۔اس آدمی نے انہیں بتایا : ” واللہ ! میں نے تو ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے اور وہ یہ کہ جب محمد (صلی ﷺ نے جاکر ابو الحکم کے دروازے پر دستک دی تو ابو الحکام نے باہر آکر محمد (صلی ) کو دیکھا تو اس وقت اس کی حالت ایسی تھی کہ گویا ایک قالب بے روح ہے اور جو نہی کہ اسے محمد (صلی ﷺ) نے کہا کہ اس کی رقم ادا کر دو، اسی وقت اس نے اندر سے لا کر پائی پائی اس کے سامنے رکھ دی۔“ تھوڑی دیر کے بعد ابو جہل بھی اسی مجلس میں آپہنچا۔اسے دیکھتے ہی سب لوگ اسے طعنے دینے لگے کہ اسے کیا ہو گیا تھا کہ وہ محمد (صلی للی ) سے اس قدر ڈر گیا۔اس نے کہا: ”خدا کی قسم! جب میں نے محمد (صلی یکم) کو اپنے دروازے پر دیکھا تو مجھے یوں نظر آیا کہ اس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضبناک اونٹ کھڑا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ذرا بھی چون و چرا کروں گا تو وہ مجھے چبا جائے گا۔“ (سیرت ابن ہشام، جزو اول، صفحہ : 258 ، 259 زیر عنوان ابو جہل والا راشی۔الناشر مکتبہ التوفيقيه الازهر مصر ) یہ واقعہ رسول اللہ صلی الیکم کی اس طاقت کا ترجمان ہے جو آپ کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی۔یہ طاقت ایسی تھی جس کے سامنے دنیا کی ہر طاقت بے زور وبے حیثیت تھی۔اس طاقت کو آپ کے مخالف اور آپ کے اردگرد لوگ اچھی طرح محسوس و مشاہدہ کرتے تھے۔چنانچہ بدر کی لڑائی کے لئے جب مکہ کے رؤساء اور جنگجو لوگ تیار ہوئے تو ابو لہب اور امیہ بن خلف جو وہاں کے بڑے رؤساء میں سے تھے اور رسول اللہ صلی یی کم اور آپ کے صحابہ پر تشدد میں بھی پیش پیش تھے ، جنگ میں جانے سے خوفزدہ بلکہ لرزاں تھے۔آپ کا سامنا کرتے ہوئے انہیں جیسے موت سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی۔انہیں رسول اللہ صلی الیکم کی پیشگوئیوں کے