توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 238 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 238

توہین رسالت کی سزا 238 } قتل نہیں ہے دل کے حالات تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن فتوی ہمیشہ ظاہر پر ہی قرار پاتا ہے۔چنانچہ اسی اصول کا اظہار بتکرار رسول اللہ صلی الیم نے یہاں ذوالخویصرہ والے قصے میں بھی فرمایا ہے۔بالفاظ دیگر جب انسان کسی کی زبان سے اسلام کے اقرار کو ر ڈ کر کے اس کے دل کے ارادوں کو جاننے کا دعوی کرتا ہے تو اس کا یہ فعل دعوائے خدائی یا خدائی اختیارات کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی ہی میں نے ایسے خیالات یا فیصلوں کی اسلامی تعلیم میں کو ئی گنجائش نہیں رکھی۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کا معاملہ : كتاب الصارم۔۔۔۔۔میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کا قصہ بھی پیش کیا گیا ہے۔جب اس نے خود کو مدینے کا معزز ترین شخص قرار دے کر کہا تھا کہ وہ مدینے سے ذلیل ترین شخص کو نکال دے گا۔یہ رسول اللہ صلی ا ظلم کی شان میں ذلیل ترین گستاخی تھی جس نے جذباتی لحاظ سے صحابہ کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا تھا۔انہوں نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی مگر آپ نے یہ کہتے ہوئے اس کی اجازت نہ دی کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو مدینے میں بہت سے لوگ اس کی ہمدردی میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔نیز آپ نے فرمایا: " لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَه ، تا کہ ایسانہ ہو کہ لوگ یہ باتیں کریں کہ محمد (صلی ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علم کے اس فیصلے ، اس سلوک اور اس ارشاد پر’ الصارم۔۔‘ میں یہ تبصرہ تحریر ہے کہ فَعَلِمَ أَنَّ مَنْ آذَى النَّبِئَ علاه والله بِمِثْلِ هَذَا الْكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِئُ ع السلم قَتْلَهُ لَنَا خِيْفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الْإِسْلَامِ لَمَّا كَانَ ضَعِيفا۔“ (زير عنوان ما