توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 234 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 234

توہین رسالت کی سزا 234 } قتل نہیں ہے عَلِمُوا أَنَّهُ مِنَ الْخَوَارِةِ - صفحہ 128) لوگوں کو اس لئے معاف کیا جاتا تھا کہ اسلام کمزور تھا اور لوگوں کی تألیف کی ضرورت تھی۔اسے حکمت نہیں، مداہنت کہتے ہیں۔زمین و آسمان شہادت دیتے ہیں کہ کسی بھی حالت میں اور کسی بھی دور میں نہ اسلام کبھی کمزور تھانہ رسول اللہ صلی الیم نے کبھی اصولوں کی سودا بازی کی تھی۔آپ بفضلہ تعالیٰ و عونہ طاقتور تھے اور اسلام بھی طاقتور تھا۔اسی لئے آپ اور صحابہ توہین اور سب و شتم پر عفو و در گزر کرتے تھے کیونکہ ہمیشہ طاقتور معاف کرتا ہے، کمزور معاف نہیں کر سکتا۔کیونکہ کمزور تو خو د طاقتور کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔اسلام کے خوبصورت اصول تالیف قلوب کا منظر بھی یہ نہیں ہے کہ یہ کمزوری کے باعث یا کمزوری کو چھپانے کے لئے کی جاتی ہے۔یہ تو اسلام کا قوت اور بالاتری کا ایک ممتاز اصول ہے۔اس سنہری اصول کی وجوہات یا حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کمزور اور ضرور تمند کی مدد کے لئے قائم کیا گیا ہے۔اس شخص کے معاملے کو کتاب "الصارم۔۔۔۔۔(باب ” متی اضمر المنافقون النفاق صفحہ 154:) میں آگے جا کر پھر پیش کیا گیا ہے اور وہاں مسلم کی یہ روایت بھی پیش کی گئی ہے کہ حضرت خالد نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ فرمایا: ” نہیں، ممکن ہے یہ نماز پڑھتا ہو “، خالد نے کہا: ”بہت سے نمازی ایسی بات کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں ہوتی۔“ اس پر رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا: ” مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کر اور بطن پھاڑ کر دیکھا کروں۔“ (مسلم کتاب الزکوۃ باب ذكر الخوارج وصفاتھم ) رسول اللہ صلی الی یکم کا یہ کیسا اعلی جواب ہے جو سونے کے حروف سے لکھا جانے والا اور ہیروں سے سجایا جانے کا حقدار ہے۔اس میں آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتا دیا ہے کہ