توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 233
توہین رسالت کی سزا ( 233 ) قتل نہیں ہے الصارم۔۔۔۔۔۔میں دیئے گئے عنوان میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ صحابہ خارجیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔مگر تعجب ہے کہ ثبوت کے لئے جو واقعہ پیش کیا گیا ہے، اس میں کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔نہ ہی اس طرح کی کوئی مثال ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے کسی ایسے حلیے والے کو قتل کیا تھا۔یعنی خارجی جیسا حلیہ نہ رکھنے والے کو قتل نہ کرنا دلیل بن کس طرح سکتا ہے کہ صحابہ خارجیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔پس یہ تو محض ایک مفروضہ ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے برعکس مسلّمہ حقیقت یہ ہے کہ سوائے محارب فسادیوں کے یا لڑائیوں اور جھڑپوں میں لڑنے والے شخص کے قتل کے علاوہ عام گستاخوں ، بد زبانوں یا خارجیوں وغیرہ کے قتل کا کوئی قانون نہیں تھا جس پر صحابہ عمل پیرا تھے۔کتاب "الصارم۔۔۔۔۔کے مذکورہ بالا دعوے کی قلعی اس سے بھی کھل جاتی ہے کہ خارجیوں نے تو خروج ہی حضرت علی کے دور میں کیا تھا۔اس سے پہلے ان کا تو کوئی وجود نہیں تھا، نہ ہی ان کی کوئی علامت، کوئی نام یا گروہ وغیرہ تھا۔لہذا حلیے کی تخصیص کی بات ہی بے معنی ہے۔پس حضرت عمر والی اس روایت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔خارجی کے قصے والی روایت لازما جعلی ہے جو کتاب ” الصارم “ میں درج ہے۔اس سارے مسئلے کے ساتھ جو بات اس کتاب میں نظر انداز کی گئی ہے، یہ ہے کہ عکرمہ مولیٰ حضرت ابن عباس خارجی تھا۔کتاب ' الصارم۔۔۔۔۔میں اس کا نام بار بار جپا گیا ہے اور اس سے بار بار روایات لی گئی ہیں۔اس سے ہر قاری اس کتاب کے معیار کا بھی ایک اچھا اندازہ کر سکتا ہے۔یہ بھی اس روایت کے جعلی ہونے کا ایک ثبوت ہے۔حضرت عمرؓ کے واقعے والی اس روایت کے ساتھ اس کتاب میں یہ خوفناک تبصرہ بھی کیا گیا ہے کہ "إِنَّ الْعَفْوَعَنْ ذَلِكَ كَانَ فِي حَالِ الضُّعْفِ وَالْإِسْتِغْلَافِ زِيرِ عنوان: كَانُوا يَرَوْنَ قَتْلَ مَنْ