توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 6 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 6

توہین رسالت کی سزا { } 6 — قتل نہیں ہے وعید سے ایک جگہ معنے اور لئے جائیں اور دوسری جگہ اور۔واقعہ یہ ہے کہ ان تمام میں سے کسی ایک کو بھی اس لفظ کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا گیا یا اس کی ہلاکت کی اجازت نہیں دی گئی۔جب عملاً ایسا نہیں ہوا اور واقعہ ایسا نہیں کیا گیا تو پھر توہین کے مرتکب کو قتل کرنے کی دلیل کیا ٹھہری؟ اس آیت کو پیش کرنے کا جواز کیا ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ظلم و خونریزی کی باتیں ہیں اور رسول اللہ صلی علیکم کو بد نام کرنے کی گندی اور ذلیل کو ششیں ہیں۔مذکورہ بالا آیت کے ساتھ ایک آیت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً “ (الاحزاب : 58) کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر اس دنیا میں بھی لعنت کی گئی اور آخرت میں بھی لعنت کی گئی اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا، رسوا کن عذاب مقدر ہے۔قائلین قتل شاتم اس آیت سے استنباط کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں تو رسول اللہ صل اللی کم کو اذیت دینے والوں کو عذاب دے گا مگر یہ آیت دنیا میں بھی تو لعنت کی بات کرتی ہے۔لہذا یہاں انہیں یہ اختیار ہے کہ وہ کسی پر بھی ایسا الزام لگا کر اسے قتل کر دیں۔پھر عملاً یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں یہ خود ان توہین کرنے والوں پر اللہ کی لعنت بن کے برسیں گے۔یعنی وہ لعنت یہ لوگ خود ہیں جو توہین کرنے والوں پر برستی ہے۔اس بارے میں قرآن کریم میں جب ہم راہنمائی تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جس طرح عذاب الیم کئی طرح کے مجرموں کے لئے آیا ہے اسی طرح لعنت کا محاورہ بھی اس میں عام ہے۔یہود میں سے نبیوں کی مخالفت کرنے والوں اور بد عہدوں کے متعلق بھی کثرت سے ہے کہ ان پر بار بار لعنت پڑتی رہی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اور نبیوں کی زبان سے بھی۔دنیا میں بھی ان پر غضب نازل ہوا