توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 145 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 145

توہین رسالت کی سزا { 145 } قتل نہیں ہے جہانتک صحابہ پر سب کی سزا کا تعلق ہے، اگر یہ مسئلہ دین کے اہم اور بنیادی قوانین سے تعلق رکھتا تھا تو تحقیق کا حق ادا کرتے ہوئے ائمہ سلف کو اس زیر بحث روایت کی روشنی میں درج ذیل روایات کا حل بھی تلاش کرنا چاہئے تھا۔یہ معدودے چند روایات ہیں جو صرف صحیح بخاری سے بطور نمونہ پیش ہیں۔جبکہ صحیح بخاری میں اور دیگر کتب میں اس نوع کی متعد د روایات موجود ہیں۔چنانچہ صحیح بخاری کتاب الصبية و فضلها۔۔۔۔۔باب من اهدى الى صاحبه و تحریى بعض۔۔۔میں ایک تفصیلی واقعہ درج کیا گیا ہے اور اس میں حضرت زینب کے بارے میں لکھا ہے فَسَبَتْهَا “ کہ آپ نے حضرت عائشہ پر سب کیا۔بخاری کتاب المغازی باب الافک میں ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : " سَبَبْتُ حَسَّانَ “ میں نے حسان بن ثابت پر سب کیا۔بخاری کتاب الادب باب قول الضيف لصاحبي۔۔۔۔۔میں لکھا ہے: ” فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ فَسَب“ کہ ابو بکر نے غصہ کیا اور سب کیا۔ان روایات میں لفظ 'سب استعمال ہوا ہے۔ان کے شائع شدہ اردو تراجم میں اس کا عام معنی گالی ہی کیا گیا ہے۔ان صحابہ یا صحابیات کو کیوں کوڑوں کی سزا نہیں دی گئی ؟ پیٹا کیوں نہیں گیا؟ یہ سب کبار صحابہ اور صحابیات ہیں۔اگر گالی دینے کی سزا وہی ہے جو زیر بحث روایت میں قرار دی گئی ہے تو صحیح کتب کی صحیح روایتوں میں مذکوران تاریخی حقیقوں کو کیوں چھپایا جاتا ہے جو اوپر بیان کی جاچکی ہیں ؟