توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 95
توہین رسالت کی سزا ( 95 ) قتل نہیں ہے فتنہ پردازی سے نہ رکے تو ایک گڑھا کھدوایا اور انہیں پھر تنبیہ کی۔وہ اپنی اس حرکت پر مصر رہے تو بالآخر انہیں قتل کیا گیا اور گڑھے میں دبا کر اوپر آگ جلا دی۔روایت اور اس کی سند: فتح الباری شرح صحیح بخاری میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ روایت، جس میں انہیں جلانے کا واقعہ بیان ہوا ہے منقطع روایت ہے۔یعنی اس روایت کی سند میں راوی صحابی کے علاوہ کوئی راوی درمیان سے غائب ہے جس کی وجہ سے سند کا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔لہذا یہ ایک منقطع یعنی کمزور روایت ہے۔یہ روایت چونکہ صحاح ستہ میں بخاری کے ساتھ دیگر اور کتب میں بھی آئی ہے۔اس لئے اس کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔اس کے لئے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔چنانچہ پہلی بات تو یہ ہے کہ روایات کو پرکھنے کا سب سے بڑا اور اول اصول یہ ہے کہ اسے قرآن کریم پر پر کھا جائے۔چونکہ یہ روایت قرآن کریم کے مسلّمہ تعلیمات اور اصولوں کے خلاف ہے جن کی نشاندہی خود امام بخاری نے اس کے اوپر آیات پیش کر کے کر دی ہے۔اس کی روشنی میں زندہ جلانے کے واقعہ کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری نے روایات جمع کرنے میں گو بہت محتاط اور کڑے اصول رکھے تھے مگر بعض روایات جو در حقیقت درست نہ تھیں کسی طور سے ان اصولوں کی چھلنی میں سے بھی گزر گئی ہیں لیکن امام بخاری کی نظر بصیرت سے اوجھل نہیں ہوئیں۔لہذا آپ نے انہیں ہر گز تنہا نہیں چھوڑا۔آپ نے ان پر انتہائی بصیرت کے ساتھ باب کا جو عنوان باندھا ہے اس میں اس روایت کا یا تو حل پیش کر دیا ہے یا قاری کو متوجہ کر دیا ہے کہ اسے اصل حکم یعنی قرآن کریم کے مطابق پرکھ لو۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ﷺ پر تین جھوٹوں