توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 94
توہین رسالت کی سزا 94 } قتل نہیں ہے سامنے لے آتا ہے۔چنانچہ یہاں آپ نے چن چن کر وہ آیات پیش کر دی ہیں جو پکار پکار کر منادی کرتی ہیں کہ محض ارتداد اختیار کرنے والے کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔لہذا ہر ایسی روایت کی ان آیات کے ساتھ حتی الامکان تطبیق کی جائے گی یا غیر جانبدارانہ تحقیق کر کے اس کی حقیقی تأویل کی جائے گی۔تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی الیکم کی تعلیم یا اُسوے کے خلاف نہ کھڑی ہو۔ہاں اگر اس کی تاویل یا تطبیق نہ ہو سکے تو ر ڈ کر دی جائے گی کیونکہ وہ مذکورہ بالا آیات کے خلاف ہو گی۔چوتھی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ جہائتک زیر بحث روایت میں مذکور تفصیلات کا تعلق ہے۔اس روایت کی تشریح میں شرح فتح الباری میں لکھا ہے کہ عمار الدھنی جو اس واقعے میں موجود تھے اور اس کے عینی شاہد ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی نے ان زند یقوں کو جلایا نہ تھا بلکہ گڑھا کھود کر ان (مقتولوں) کو ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا تھا اور ( دبانے کے بعد ) اوپر آگ جلا دی تھی۔شرح فتح الباری میں امام ابن حجر العسقلانی نے کتاب الملل والنحل کے حوالے سے اس بارے میں تفصیلاً لکھا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ رافضی لوگ تھے اور حضرت علی کو الوہیت کے مقام پر رکھتے تھے اور اپنی مسجد میں آپؐ کو خالق اور رازق قرار دیتے ہوئے دعا کرتے تھے۔ان کا بڑا سر دار ابن الاسود عبد اللہ بن سبا تھا جو یہود میں سے بظاہر مسلمان ہوا تھا۔( تاریخ گواہ ہے کہ یہ شخص حضرت عثمان کے دور خلافت میں عالم اسلام میں بڑے بڑے فتنوں کا بانی مبانی اور سرغنہ تھا۔) پھر وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے انہیں تین دن مسلسل تنبیہہ کی اور ان پر خوب واضح کیا کہ اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔وہ اپنی اس