تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 244

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم کرتے ہیں۔کیونکہ ظالمین کو خدا تعالیٰ انصار الی اللہ عطا نہیں کیا کرتا۔اس مضمون کو پھر اگلی آیتوں میں کھول کر بیان کیا کہ کن انصار کی بات ہورہی ہے۔واقع یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر خرچ کرنے والے پیدا ہوئے۔لیکن شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض غلط لوگوں کی غلط تحریکات پر بھی ان کے مددگار پیدا ہو جاتے ہیں اور حکومتیں بھی ان پر خرچ کرتی ہیں۔پھر کچھ امراء بھی ایسے ہوتے ہیں، جو بدلوگوں پر بدار ا دوں سے خرچ کرتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں کی کیا پہچان ہو گئی ؟ جب صورت یہ ہے کہ اس شخص کی آواز پر خرچ کرنے والے تو انصار ہیں، جو ظالموں کو نصیب نہیں ہوتے۔اور دوسری آوازوں پر خرچ کرنے والے انصار نہیں ہیں تو پھر لازما ان دونوں قسم کے خرچ کرنے والوں کے مابین تمیز ہونی چاہئے۔اس لئے اگلی آیت اس مضمون کو کھولتی چلی جارہی ہے۔یہ آیات خرچ کرنے والوں میں اتنا بین فرق کر دیتی ہیں کہ جو انصار الی اللہ ہوتے ہیں، ان میں اور بدار ا دوں کے ساتھ بد مقاصد کے لئے خرچ کرنے والوں میں تمیز نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔فرمایا:۔اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ ط فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمُ مِّنْ سَيَّاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اب یہ مضمون پہلی آیات کے مضمون کو دو طرح سے کھول رہا ہے۔ایسا حسین ربط ہے کہ انسان قرآن کریم کے انداز بیان کو حیرت سے دیکھتا ہے۔اس آیت کا پہلا ٹکڑا جو ہے، وہ پہلے حصہ سے تعلق رکھتا ہے۔جو یہ ہے، وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةِ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا اور دوسرا حصہ انصار الی اللہ کے مضمون کو کھولتا ہے۔یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔فرمایا: ان تبدوا الصدقات اگر تم صدقات ظاہر کر دو ، خدا کی راہ میں جو خرچ کرتے ہو، اسے کھول دو، فنعماھی یہ بھی بہت اچھی بات ہے۔وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اگر تم ان کو چھپاؤ اور فقراء کو دے دو تو یہ بھی تمہارے لئے ٹھیک ہے۔اس مضمون کی وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پہلی آیت میں تو یہ بیان فرما دیا تھا کہ اللہ کو علم ہے۔اور جس کی خاطر تم خرچ کر رہے ہو، جب اس کو علم ہو گیا تو بات پوری ہوگئی ، مضمون مکمل ہو 244