تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 80
خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم علاقے کو فتح کرنا نہیں ہوتا بلکہ دو مختلف نظریات کے ساتھ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسلام دوسرے کے علاقے کو تباہ و برباد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اسلام دوسروں کے علاقے سے محبت کی تعلیم دیتا ہے، اس جذبہ کے ساتھ کہ ان میں ترقی اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔پس آج اس قسم کا تعلق یہودیوں اور باقی دنیا کے درمیان استوار ہو چکا ہے، جس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کی کشمکش جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر غیر یہودی ہزاروں کی تعداد میں بھی ہلاک ہو جائیں تو یہودیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔لیکن اگر تین، چار یہودی کسی تکلیف میں گرفتار ہو جائیں تو ساری یہودی قوم اس کو اس قدر اہمیت دیتی ہے گویا ان لوگوں کی تکلیف کو باقی دنیا کی تکلیف سے کوئی نسبت ہی نہیں۔اس قسم کا مظاہرہ کئی دفعہ ہو چکا ہے، مثلاً کوئی قوم یہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ اپنی قوم کے چار جنگی قیدیوں کی خاطر دشمن کے 64 ہزار جنگی قیدی چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔لیکن یہودیوں نے ایسا ہی کیا۔کیونکہ ان کے نزدیک وہ چار یہودی، جو 1956 ء میں مصر کے قبضہ میں تھے، وہ ان 64 ہزار مصری جنگی قیدیوں سے زیادہ قیمتی تھے، جن میں ان کے بڑے بڑے جرنیل اور افسران بھی شامل تھے۔اس موقع پر جب کسی اخباری نمائندے نے اس شخص سے، جو یہودیوں کی طرف سے جنگی قیدیوں کے تبادلہ پر متعین تھا، خاص طور پر اس امر کے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ ہمیں تعداد کے اس غیر معمولی فرق کا احساس ہے لیکن اصل چیز جنس ہے، تعداد کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ہمارے نزدیک 64 ہزار کی کوئی حیثیت نہیں مگر چار یہودی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔دنیا کے معاملات سے علیحدگی کا یہی نتیجہ ہوتا ہے اور ایک غیر وسعت پذیر جماعت ہمیشہ علیحدگی پسند ہوتی ہے اور انجام کار یہ حالت لامتناہی دشمنیوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔بعض اوقات ایک جماعت ظلم کرتی ہے تو بعض اوقات دوسری۔بعض اوقات نازی ازم کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے، جیسے لبنان میں یہودیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔لیکن یہ باہمی کشمکش چلتی چلی جاتی ہے، جس سے اعلیٰ انسانی اقدار کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔پس جو قو میں علاوہ دیگر اسباب کے بنیادی طور پر تبلیغ کے ذریعہ پھیلنے کے واسطے بنائی گئی ہیں اور یہ اسباب متعدد ہوتے ہیں، جنہیں یکے بعد دیگرے بیان کیا جا سکتا ہے، ایسی قوموں کے لئے تبلیغ کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔اور اگر آپ کے لئے تبلیغ کے ذریعہ پھیلنا مقدر ہے مگر آپ اس میدان میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا لازمی انجام یہی ہوگا کہ باقی دنیا کے ساتھ آپ کی طرف سے ناپسندیدہ دشمنی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔80