تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 872
ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اس سلسلے میں ہماری پہلی کوشش یہ ہے کہ عربی میں ہر قسم کے موضوع پر کثیر تعداد میں لٹریچر شائع کر رہے ہیں، جو پہلے نہیں ہوا۔اس لٹریچر کو وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کی ایک سکیم تیار کی ہے، جس کے تحت عرب لیڈرز کی ایک بڑی تعداد کو یہ لٹر پر بھجوایا جارہا ہے۔اس سلسلے میں ہمارا دوسرا قدم عربی کا ایک ماہوار رسالہ شائع کرنے کا پروگرام ہے، جس میں ہر قسم کے موضوعات کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا جائے گا۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اس سکیم کے نیک اثرات ظاہر ہونے شروع ہو چکے ہیں۔نہ صرف یہ کہ لوگ احمدیت قبول کر رہے ہیں بلکہ کئی دوسرے معنوں میں بھی لوگ احمدیت سے متعارف ہورہے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔ور عرب امارتوں میں کئی ایسے شیخ ہیں، جنہوں نے صرف احمدیت کے مخالفین کی باتیں سنیں تھیں، اب انہوں نے احمدیت کا دوسرا رخ دیکھا ہے تو ان کی مخالفت اور تعصب میں کمی ہو رہی ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک عربی قصیدہ لکھ کر متعد د عرب امارتوں میں مختلف لوگوں کو بھجوایا تھا۔ایک عرب امارت میں یہ قصیدہ وہاں خواتین کے رسالے میں کسی نے چھپوا دیا اور بہت پسند کیا گیا۔مجھے اس کی اطلاع مل چکی تھی۔لیکن آج صبح کی ڈاک میں مجھے ایک خط وہاں کے امیر کی بیوی کا موصول ہوا ہے کہ ہمیں اس قسم کا مواد بھجوائیں، ہم اس کو فور شائع کروادیں گئے۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ احمدیت ( جو اپنی ذات میں نہایت خوبصورت چیز ہے) کی طرف ہر قسم کی برائی منسوب کی جا چکی ہے، لہذا اس صورت حال کو بدلنا پڑے گا۔اور جہاں تک حج کا تعلق ہے، پوری تاریخ میں ایک شخص کو حج سے روکا گیا تھا اور وہ حضرت اقدس محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تھی۔آپ اور آپ کے صحابہ کرام وہ لوگ تھے، جن کو کفار مکہ سے معاہدہ امن کے تحت اس سال حج کرنے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ اس معاہدہ کی رو سے اگلے سال حج اور عمرہ کے لئے واپس آنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل مقابلہ نہیں کیا۔حالانکہ صحابہ کرام بھی واپس جانے کے حق میں نہیں تھے بلکہ آخری سانس تک لڑ کر حج کرنے کے خواہشمند تھے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات بھی نہیں مانی۔ہمارے لئے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قابل پیروی ہے، اتی سے ہمیں کوئی سرد وسلم کی کی باقی باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قدم قرآن کریم کی ان آیات کی 872