تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 864
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ہفتم ابھرتا ہے۔جب انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک نہیں دیکھتا اور خوبیوں سے خالی پاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ہی ذات اس کے لئے باقی رہ جاتی ہے، جو سب گناہوں سے پاک ہے اور ساری خوبیوں سے مرصع ہے یعنی خدا تعالٰی۔پس اپنی نفی کے نتیجے میں خدا کا اثبات پیدا ہوتا ہے۔21 تو استغفار ذنب کے ساتھ تسبیح وتحمید کے مضمون کا ایک نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے۔اور Inverse Proportion ہے۔ان کی یعنی ایک کم ہوگا تو دوسر از یادہ ہو جائے گا، دوسرا کم ہوگا تو پہلا زیادہ ہو جائے۔جب پہلا زیادہ ہوگا تو دوسرا کم ہو جائے گا۔بیک وقت دونوں نہیں بڑھتے یعنی انکسار اور تسبیح ان دونوں کا یہ اس قسم کا تعلق ہے کہ اپنے آپ کو کم دیکھیں گے تو خدا زیادہ نظر آئے گا۔اپنے آپ کو زیادہ دیکھیں گے تو خدا کم نظر آئے گا“۔خدا سے استغفار کرتے ہوئے ، اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے ، جب پھر انسان کسی دوسرے کو نصیحت کرتا ہے تو اس نصیحت میں خدا کی تسبیح و تحمید کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ اس انکسار کے نتیجے میں اس کے دل سے تسبیح اٹھتی ہے اور تحمید اٹھتی ہے۔اور جو باتیں وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور خدا کی طرف بڑے محبت اور پیار سے منسوب کرتا ہے، خدا وہی باتیں اس میں پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔کچھ کچھ اسی لئے اس کی زبان میں ایک غیر معمولی شان اور غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے“۔وو اس کے برعکس کچھ لوگ ہیں، جو خدا کے نام کو پھیلانے والوں کے خلاف ایک مہم کا آغاز کرتے ہیں اور وہ طاقت میں بڑے ہوتے ہیں، وہ جھگڑے میں زیادہ شدید ہوتے ہیں اور بڑی قوت کے ساتھ وہ ان کمزور تھوڑی تعداد کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں جو خدا کی طرف بلانے کا عزم لے کر دنیا میں خدا ہی کی خاطر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو ان کو کوئی ایسی دلیل عطا نہیں کی، جس کے نتیجے میں وہ دنیا میں غالب آنے کے خواب و خیال بھی کر سکیں۔چھوٹی موٹی گھٹیا ، ذلیل باتیں ہیں، جو لے کر تم سے جھگڑنے کے لئے نکلے ہیں لیکن سلطان ان کے پاس کوئی نہیں۔33 جب سلطان نہیں تو پھر لڑتے کس برتے پہ ہیں؟ ہاتھ میں تلوار ہے، یہ مضمون اس کے اندر شامل کر دیا گیا ہے اس لئے کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہے ہیں۔جو شخص دنیا کی طاقت رکھتا ہو، دنیا کا غلبہ رکھتا ہو، اس کے اندر ایک کبر پیدا ہو جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے، میں بہت بڑا ہوں، مجھے اختیار ہے، جو چاہے، میں کروں۔864