تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 865
تحریک جدید- ایک الہی تحریک وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 1987ء ان کے دل میں کبر ہے لیکن وہ اس کبر کو پا نہیں سکیں گے۔مطلب یہ ہے کہ یہ کبر ان کا جاتا رہے گا۔ان کی ساری طاقتیں چھین لی جائیں گی اور اگر وہ خدا کی مخالفت کے نتیجے میں اور خدا کے پاک بندوں کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا میں کسی بڑائی کو چاہتے ہوں اور ان کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا والوں سے کوئی داد چاہتے ہوں اور رتبہ چاہتے ہوں اور اپنی طاقت کو بڑھانا چاہتے ہوں، جیسا کہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں مخالفین کے یہ پیش نظر رہا تو آغاز تو کبر سے ہوا لیکن فرمایا کہ وہ جس مقصد کو چاہتے ہیں، یعنی دنیا کی طاقت کو بڑھانے کے لئے یہ شرارت کرتے ہیں، وہ دنیا کی طاقتوں کو خدا کی جماعتوں کی مخالفت کے ذریعے نہیں پاسکتے۔بلکہ جو کبر ان کے دل کا ہے ، وہ بھی چھین لیا جائے گا۔وہ دنیا میں ذلیل و رسوا اور نہتے کر دیے جائیں گئے۔وو صاف بتا دیا کہ صرف ان کی ناکامی کی پیشگوئی نہیں بلکہ مومنوں کی فتح کی بھی پیشگوئی فرما دی گئی ہے۔فرمایا: ان کے ہاتھ سے تو ان کا کبر جاتا رہے گا لیکن مومنوں کو وہ فتح ضرور نصیب ہوگی، جس کا وعدہ دیا گیا ہے اور جس فتح کے آخر پر استغفار کی طرف توجہ دلائی گئی۔پس یہ عجیب خدا کے بندوں کا حال ہے، عجیب نقشہ ہے۔فرمایا: جب وہ خدا کی خاطر لڑنے کے لئے نکلتے ہیں تو بظاہر کتنے بڑے دشمن ان کے سامنے صف آراء ہوں، وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ایک لمحہ کے لئے مایوس نہیں ہوتے اور اپنی بڑائی نہیں سمجھتے بلکہ ہر لمحہ اپنے آپ کو کمز ور دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی استغفار کرتے ہوئے ، اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔اور ان کے ہتھیار خدا کی تسبیح اور خدا کی تحمید ہیں۔ان کے مقابل پر ان کا دشمن ہے، اس کے پاس دنیا کی طاقتیں تو موجود ہیں، جس کے نتیجے میں اس کے دل میں کبر پیدا ہو گیا ہے مگر وہ سلطان سے خالی ہیں۔کوئی ایسی دلیل ان کے پاس نہیں، جو خدا نے ان کو عطا کی ہو اور کوئی غالب آنے والی علامت ان میں موجود نہیں، جس کے نتیجے میں سلطانی عطا کی جاتی۔اور جو کبر ان کے پاس ہے، ایک وقت ایسا آئے گا کہ خدا اس کبر سے بھی ان کو محروم کر دے گا۔یعنی کبر کی ظاہری وجہ سے بھی ان کو محروم کر دے گا اور مومنوں کو لاز ما فتح عطا کرے گا۔فرمایا: فاستغفر باللہ پھر استغفار کرو۔تو مومنوں کے آغاز میں بھی استغفار ہے اور انجام میں بھی استغفار ہے۔اور بہت سے مضامین کے علاوہ اس کی ایک وجہ یہ ہے، جسے جماعت احمدیہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اگر آغاز میں انکسار سچا تھا تو فتح کے بعد دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ ہم نے یہ چالا کی کی تھی ، ہم نے ایسی زبردست لڑائی کی 865