تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 862
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اور صبر کے اندر دو مضامین ہیں۔ایک تو یہ کہ ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کرتے چلے جانا اور کسی تکلیف کے موقع پر بھی مایوسی کا اظہار نہ کرنا۔یقین کامل رکھنا کہ میں بہر حال غالب آؤں گا۔وقت کی بات ہے، اس لئے جیسے کیسے بھی وقت کو کاٹوں۔کیونکہ بالآخر اس برے وقت نے ٹل جانا ہے اور اچھے وقت نے لازما آنا ہے۔پس صبر کے مضمون میں یقین کامل کا مضمون بھی داخل ہے۔اور وہی لوگ صبر کر سکتے ہیں، جن کا ایمان قوی ہو۔جو اپنے مقصد کے غلبے پر کامل یقین رکھتے ہوں اور کبھی بھی اس بارے میں متذبذب نہ ہوں۔کیونکہ یقین اور صبر دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔جہاں یقین میں کمی آئی ، وہیں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے گا“۔وو صبر کے اس مضمون میں اور بھی بہت سی چیزیں داخل ہیں لیکن اس وقت اس تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔پہلے بھی بعض مواقع پر صبر کے متعلق میں تفصیلاً بیان کر چکا ہوں۔ایک بات بہر حال ذہن نشین رکھنی ضروری ہے، ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کے لئے کہ صبر کے بغیر نہ دعوت الی اللہ ہو سکتی ہے، نہ صبر کے بغیر فتح کا دن دیکھنا نصیب ہو سکتا ہے۔صبر کے بغیر انسان اپنی اچھی باتوں پر قائم بھی نہیں رہ سکتا۔صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ انسان مایوسی سے بچ سکے اور اپنی نیکیوں پر استقلال اختیار کر سکے۔اس لئے صبر بہت ہی ضروری ہے۔لیکن اس یقین کے ساتھ صبر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ بالآخر خدا تعالیٰ لاز مافتح کا دن طلوع فرمائے گا۔وو بات یہ ہے کہ جو شخص بھی خدا کی طرف بلانے والا ہو، اگر اس کی توجہ اپنی اندرونی صفائی کی طرف نہ ہو تو اس کی دعوت میں طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔کیونکہ دعوت کا تعلق اعمال صالحہ سے ہے۔جتنی کسی کو زیادہ نیکی کی توفیق ملتی ہے، اتنا ہی اس کی بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔جتنا ہلکا اور کھوکھلا انسان ہو، خواہ وہ کیسی ہی عمدہ تقریریں کرنے والا ہو، دلائل میں کیسا ہی غالب آنے کی اہلیت رکھتا ہو، اس کی بات میں قوت پیدا نہیں ہوتی۔اس لئے تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ راز سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کو اعمال صالحہ کی طرف لازما توجہ کرنی ہوگی۔اعمال صالحہ کا مضمون تو لا متناہی ہے۔ایک انسان ایک وقت کسی حالت میں ہے، دوسرے وقت کسی حالت میں ہے، تیسرے وقت کسی حالت میں ہے۔اگر وہ مسلسل بھی ترقی کر رہا ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے عمل صالح کا آخری مقام حاصل کر لیا۔اس لئے یہ شرط نہیں لگائی جاسکتی کہ جب تک عمل صالح کامل نہ ہو جائے ، اس وقت تک تم تبلیغ نہ شروع کرو۔اگر یہ شرط لگ جائے تو خدا کے بعض معصوم بندوں 862