تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 861
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اصف " اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 1987ء غالب آنے کے ہتھیار۔صبر، استغفار، انکسار تسبیح وتحمید خطبہ جمعہ فرمودہ 11 دسمبر 1987ء۔۔۔پس جہاں تک استغفار اور تسبیح اور تحمید کا تعلق ہے، سورہ نصر میں فتح کے نتیجے میں ان امور کی طرف توجہ دلائی گئی۔اور فتح کے وعدے کے انتظار میں، وعدے کے پورا ہونے کے انتظار میں بھی اسی مضمون کی طرف توجہ دلائی گئی لیکن وہاں تسبیح اور تحمید کے بعد استغفار کا ذکر ہے، یہاں تسبیح وتحمید سے پہلے استغفار کا ذکر ہے۔اور اس سے پہلے صبر کی نصیحت کا اضافہ فرما دیا گیا۔اس پر غور کرنے سے بہت سے نکات ہاتھ آتے ہیں اور فتح و نصرت کو قریب تر لانے کے لئے جو اسباب ہیں، ان پر نظر پڑتی ہے۔اور انسان اس مضمون کو سمجھنے کے بعد پہلے سے بہتر دعوت الی اللہ کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔چنانچہ بہت سے دوست، جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دعوت الی اللہ تو ہم کر رہے ہیں لیکن ہماری دعوت کو پھل نہیں لگتا۔جبکہ اور بہت سے ہیں، جو دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں، ہم سے کم وقت دیتے ہیں اور بظاہر علم میں بھی ہم سے زیادہ نہیں مگر ان کی دعوت کو پھل لگتا ہے۔اس کا کیا علاج ہے؟ قرآن کریم کی اس آیت پر غور کرنے سے اس کا علاج سمجھ میں آجاتا ہے۔خدا نے جس نصرت کا وعدہ فرمایا ہے کہ جوق در جوق لوگ دین اسلام میں داخل ہوں گے، اس نصرت سے پہلے سب سے پہلے صبر کی تلقین فرمائی گئی۔فرمایا کہ صبر کرنے والوں کے سوا اس عظیم الشان فتح کو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔اور یہ فتح صبر کرنے والوں کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔اس لئے صبر کے مضمون کو سب سے زیادہ اس میں اہمیت ہے۔وجہ یہ ہے کہ جب بھی غیر سے مقابلہ ہوتا ہے، جیسا کہ دوسری آیت اس مضمون کو اور کھول دے گی تو اس مقابلے میں دنیا کی نظر کے لحاظ سے ایک طرف انتہائی کمزوری اور ایک طرف انتہائی بڑی طاقت ہوتی ہے۔اور کمزوری کو وعدہ دیا جا رہا ہے کہ وہ طاقت پر غالب آجائے گی۔اور کمزور لوگ اس وعدے کے انتظار میں خدا سے ایک آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔چنانچہ غالب کے مقابل پر جب کمزور کو کھڑا کر دیا جائے تو کمزور اس مقابلے میں استقلال اختیار کر ہی نہیں سکتا، جب تک اس کے اندر غیر معمولی صبر کی ک طاقت موجود نہ ہو۔861