تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 851 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 851

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء بتایا کہ یہ نظارہ بھی میں نے دیکھا، مجھے اس کی تعبیر چاہیئے۔تو جب میں نے ان کو سمجھایا تو ان کی بالکل کیفیت بدل گئی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دلچسپی اور بڑھ گئی۔یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ آپ اب ٹیلی ویژن پہ انٹرویو کے لئے جارہے ہیں تو مجھے اجازت ہے، میں بھی ساتھ آجاؤں؟ میں نے کہا: ہاں! شوق سے آئیں۔اور وہاں بھی بیٹھے رہے اور بڑا ہی چہرے پہ محبت کے آثار ظاہر ہورہے تھے۔مجھ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے دیکھا ہے، جب اللہ تعالیٰ دل بدلنا چاہتا ہے تو بالکل اچا نک بدل دیتا ہے۔جیسے مشرق سے کسی کا سر پکڑ کے مغرب کی طرف کر دے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی نقشہ کھینچا ہے۔فرمایا: خدا کی دو انگلیوں کے درمیان اس طرح دل ہیں، یوں اس کو پلٹ دے تو رخ ادھر ہو جاتا ہے۔یوں کر دے تو رخ ادھر ہو جاتا ہے۔اور خدا ہی کے ہاتھ میں دل ہے۔(مسلم کتاب القدر حدیث نمبر: 4798) اس لئے کوئی بھی دورہ، کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ، جب تک دعاؤں پر انحصار نہ ہو۔اور جب اللہ تعالیٰ فضل فرمائے تو معمولی کوششوں کے بھی اچھے نتیجے ظاہر ہوتے ہیں، اچھے پھل ظاہر ہوتے ہیں۔وہاں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، بے ساختہ اچانک پھل ملتے رہے۔واشنگٹن میں، جو سب سے اہم جگہ ہے، امریکہ کی طاقت کے سرچشموں کا مرکز ہے۔وہاں جو مجلس ہوئی ، وہاں غیر احمدی مسلمانوں کی طرف سے ایک باقاعدہ منظم سازش کے نتیجے میں شرارت کی کوشش کی گئی۔اور بعض سوالات ایسے کئے گئے، جس کے نتیجے میں ان کا خیال تھا کہ جو مسلمان آئے ہوئے ہیں اور ان میں بڑی بڑی اہم شخصیتیں شامل تھیں، کیونکہ واشنگٹن چونکہ مرکز ہے، وہاں سارے عالم اسلام سے اہم لوگ آکے لبسے ہوئے ہیں اور پاکستان کے نمائندہ بھی وہیں ہیں زیادہ تر۔وہاں بڑی منتظم سازش کی گئی اور بعض ایسے سوال اٹھائے گئے ، جن کے نتیجے میں وہ لوگ سمجھتے تھے کہ دوسرے مسلمانوں پر اگر کوئی نیک اثر پڑا رہا ہے تو وہ فورا مل جائے گا۔اس کا الٹ نتیجہ خدا نے پیدا کیا، ان کے نقطہ نگاہ سے۔اور جتنی کوشش کی گئی جماعت کے اثر کو مٹانے کی اتنی ہی زیادہ قوت کے ساتھ جماعت کا اثر ظاہر ہوا۔چنانچہ مجلس ختم ہونے سے پہلے ہی مستورات کے سیکشن سے مجھے پیغام ملا کہ بعض خواتین ہیں غیر مسلم ، وہ آئیں ہوئیں ہیں، وہ اتنازیادہ دلچسپی لینے لگ گئی ہیں اسلام میں کہ وہ کہتی ہیں کہ ہماری پیاس نہیں بجھے گی ، اگر وہ ہمارے پاس آکر خود بالمشافہ ہمیں موقع نہ دیں گفتگو کا۔اور بعض سوال، جو ہم وہاں نہیں کرنا چاہتیں ، ہم یہاں ان سے کرنا چاہتی ہیں۔چنانچہ معابعد میں اس مجلس میں گیا۔اور ان میں یہودی بھی تھیں، مسلمان بھی تھیں، ہندو بھی سکھ بھی، عیسائی عورتیں بھی اور اچھی خاصی ایسی مجلس تھی، جو وہ نمائندہ کلاسز کی مجلس ہوتی ہے۔نمائندہ طبقات کی مجلس 851