تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 848
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم کو اس کا ایک ایک منٹ جس حد تک بھی باندھا جا سکتا ہے، مصروفیتوں میں وہ باندھا جائے اور اس کے نیک نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔جہاں تک نیک نتائج کا تعلق ہے، اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ نیک نتائج تو خدا ہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔کوششیں آپ جتنی چاہیں کریں۔اگر دعا شامل حال نہ ہو یا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو وہ ساری کوششیں نا کام جاتی ہیں۔چنانچہ ہماری کوششوں کے مقابل پر بعض حکومتیں اس سفر کو ناکام بنانے کے لئے ہم سے بہت زیادہ قومی کوششیں کر رہی تھیں۔یہاں تک کہ غیروں نے خود ان کے متعلق ہمیں تفاصیل بیان کیں کہ کتنی توجہ کے ساتھ آپ کے دورے کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک Voice of America کے انٹرویو کے بعد ہی وہاں کے انٹرویو لینے والے نے ہمیں فون پر اطلاع دی کہ ایک ہمارے سفارت خانے پر اتنا دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ان کا کوئی انٹرویو، وہاں سے براڈ کاسٹ نہ کیا جائے کہ اب تک ہمیں چھ Telex موصول ہو چکی ہیں۔اور اس دباؤ کے نتیجے میں اگر چہ میں تو بالکل دینے والا انسان نہیں ہوں مگر ہمارے شعبے کے بڑے سر براہ وہ ڈر گئے ہیں۔اور انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اس انٹرویو کو شائع نہ کرو۔چنانچہ ہم نے ان سے پوچھا: میں نے خود تو بات نہیں کی ، جو مجھے بتایا گیا تو میں نے کہا: پھر ان سے پوچھو کہ پھر انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میرا فیصلہ تو یہی ہے کہ لازماً اس انٹرویو کو میں براڈ کاسٹ کروں گا۔لیکن میں نے اپنے افسران سے یہ کہا ہے کہ آپ ایک بورڈ بٹھا دیں، وہ اس کی سکروٹنی (Scrutiny) کریں اور اگر ان کو کوئی قابل اعتراض چیز نظر آئی تو بے شک اس حصے کو نکال دیں۔لیکن یہ کوئی قابل قبول بات نہیں ہے کہ کوئی حکومت پسند نہیں کرتی کہ کسی کا انٹرویو ہو اور وہ انٹرویو اس لائق ہو کہ ہمارے عوام اس کو سنیں یا دنیا کے دوسرے عوام اس کو سنیں اور ہم اس کو بند کر دیں۔یہ میری سمجھ سے بالا بات ہے۔چنانچہ تین یا چار آدمیوں کا ایک بورڈ بیٹھا، اس نے تفصیل سے اس انٹرویو کوسنا اور اس کو کڑی نظر سے دیکھا اور آخر پر فیصلہ کیا ایک فقرے کے متعلق کہ اگر یہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔تو جس نے انٹر ویولیا تھا، اس نے کہا کہ میرے نزدیک تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر اس کو بھی بیچ میں شامل کر دو۔تو یہ حالت تھی ، شدید مخالفانہ کوششیں کی جارہی تھیں۔ہر جگہ جہاں ہم پہنچتے تھے، تقریبا ہر جگہ یعنی اکثر صورتوں میں ایک ایک گھر چٹھیاں پہنچائی گئیں کہ ان کی بات سننے کے لئے کوئی نہ آئے۔مسلمان کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی روکا گیا کہ کوئی ان کی بات نہ سنے۔اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے 848