تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 831 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 831

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء زندگی میں ان کی مخالفت کر کے عذاب کمایا تھا۔فرمایا: تمہارے مقدر میں بھی ان کا ورثہ آئے گا۔اپنے بزرگ والدین اور اپنی پہلی نسلوں کا ورثہ پانے والوں میں سے نہیں ہوگے۔یہ وہ بڑی واضح اور عظیم اور کھلی کھلی نصیحت ہے، جس کو بار بار جماعت کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔اور خصوصاً امریکہ کے اس دورے کے نتیجے میں، میں نے محسوس کیا کہ جماعت کے سامنے اسے پھر رکھنے کی ضرورت ہے۔آپ کے دلوں میں بھی رخنے پیدا کرنے کے لئے شیطان کئی طرح سے کوشش کرتا ہے اور کر رہا ہے۔کئی طرح سے جماعت کے خلاف کوشش کی جارہی ہے۔پہلے بھی کی جاتی تھی ، آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔اس لئے یاد رکھیں کہ ہر وہ کوشش، جو اللہ سے محبت کے اوپر حملہ کرنے والی ہو اور اس محبت کے نتیجے میں ان لوگوں کی محبت پر حملہ کرے، جو خدا کی خاطر آپ کو پیارے ہیں، اس نظام پر حملہ کریں، جو خدا کی خاطر آپ کو پیارا ہے۔وہ شیطان ہیں، جو یہ آواز اٹھانے والے ہیں۔ان کی آواز کو دھتکار دیں اور رد کر دیں۔بعض دفعہ یہ شیطان واضح ہو کر حملہ کرتا ہے بعض دفعہ چھپ کر حملہ کرتا ہے۔بعض دفعہ براہ راست حملہ کرتا ہے، بعض دفعہ ایسے نمائندوں کے ذریعے حملہ کرتا ہے، جن کو آپ نیک دیکھتے ہیں، جن کو آپ اچھا پاتے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ وہ لمبے سجدے کر رہے ہیں، وہ نمازوں میں آگے ہیں اور دین کے کاموں میں بظاہر پیش پیش ہیں اور اس نتیجے میں آپ دھوکا کھا جاتے ہیں۔قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ کیا دیکھو ؟ کس طرف سے بات آرہی ہے؟ قرآن کریم نے فرمایا کہ میری محبت کو عزیز تر کر لو اور اپنے تعلق کو میرے تعلق کی بناء پر مضبوط کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔پس اگر ایک نیک آدمی کی طرف سے ایک ایسی آواز اٹھتی ہو، جس کے نتیجے میں وہ لوگ جو خدا کی خاطر آپ کو پیارے ہوں، ان کے خلاف دل میں بغض پیدا ہوتا ہے تو وہ آواز نیک انسان کی طرف سے نہیں، شیطان کی طرف سے ہے۔وہ نیک آدمی اگر بظاہر نیک ہے تو پھر وہ شیطان کا نمائندہ بن چکا ہے، آلہ کار بن چکا ہے۔اس کو علم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اس لئے ہر اس کوشش کو پہچا نہیں کہ وہ اپنی ذات میں بد ہے یا اچھی ہے۔اگر وہ تفرقہ پیدا کرنے والی کوشش ہے تو یقینا خدا کی طرف سے نہیں“۔۔اس لئے کسی نوع کا افتراق ہو، جو بات بالآخر آپ کو اپنے بھائیوں سے دور لے جانے وو والی ہو، نظام جماعت سے دور لے جانے والی ہو ، وہ آواز خدا کی آواز نہیں ہے۔اس ملک میں کئی قسم کے ایسے خطرات ہیں۔بعض دفعہ آپ کو کہنے والے یہ کہیں گے کہ فلاں آدمی امیر ہے اور اس کی زیادہ عزت ہے اور ہم غریب ہیں یا فلاں غریب ہے، اس کی عزت نہیں ہے۔اس لئے 831